منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کرکٹرز کی طرف سے ’’پیروں‘‘ کے مشورے پر شرٹ پر درج نمبرز منتخب کرنے کا انکشاف

datetime 17  جنوری‬‮  2015 |

کراچی۔۔۔۔کرکٹرز کی شرٹ پر درج نمبرزکے حوالے سے دلچسپ معلومات سامنے ا ئی ہیں، بہت سے کھلاڑیوں نے اپنے ’’پیروں‘‘کے مشوروں پر بھی پسند کے نمبر منتخب کیے، مسلسل ناکامیوں کے شکار عمر اکمل نے قسمت بدلنے کیلیے96 سے پیچھا چھڑا کر نمبر تین اپنا لیا، حارث سہیل بھی اب 89 نمبر کی شرٹ پہنیں گے۔تفصیلات کے مطابق ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچز کے دوران پلیئرزکی شرٹس پر نام و نمبر درج ہوتے ہیں، ان کا انتخاب کھلاڑی خود ہی کرتے ہیں، ایک بار کسی کو نمبر الاٹ ہو جائے تو عموماً تبدیل نہیں کیا جاتا، البتہ خصوصی کیسز میں ایسا ممکن ہے، جیسے سابق کپتان انضمام الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی شرٹ کا نمبر8پانے کیلیے محمد حفیظ نے درخواست کی جسے قبول کر لیا گیا، نوجوان بیٹسمین عمر اکمل ان دنوں مسلسل ناکامیوں کا شکار ہیں،قسمت بدلنے کیلیے انھوں نے بھی96 سے پیچھا چھڑا کر نمبر 3اپنا لیا، انھوں نے اس کے ساتھ اپنی تصویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بھی جاری کی ہے۔اسی طرح حارث سہیل یو اے ای میں نیوزی لینڈ کیخلاف80 نمبر کی شرٹ پہن کر ایکشن میں نظر ا?ئے، مگر ورلڈکپ میں انھیں89 واں نمبر ملا ہے، ذرائع نے یہ دلچسپ انکشاف کیا کہ بعض کھلاڑی اپنے ’’پیروں‘‘ سے مشورے کے بعد بھی شرٹ نمبر منتخب کرتے ہیں،بولرز کو بعد کے نمبرز پسند ہیں، جیسے وہاب ریاض47، محمد عرفان 76،یاسر شاہ86، احسان عادل91 اور جنید خان83 نمبر کی شرٹ پہنیں گے۔
ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل پلیئرز کی شرٹ پر یہ درج ہوگا، احمد شہزاد 19، محمد حفیظ 8، عمر اکمل 3، وہاب 47، عرفان 76، شاہد ا?فریدی 10، یاسر شاہ 86، احسان عادل 91، یونس خان 75 ، حارث سہیل 89، جنید خان 83، صہیب مقصود 92، سرفراز احمد 54، مصباح الحق 22 اور سہیل خان 14۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…