منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

گوبر جلانے سے تا ج محل بوسیدہ ہونے لگا

datetime 14  جنوری‬‮  2015 |

نئی دہلی۔۔۔۔ تاج محل کے سفید ماربل کا رنگ خراب ہونے کی وجہ سے تاریخی عمارت کے قریب گوبر جلانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ہندوستانی حکام کے مطابق الودگی کے باعث تاج محل کا رنگ تبدیل ہو کر پیلا ہوتا جا رہا ہے۔ہندوستان کے قدیم شہر اگرہ میں محبت کی علامت کے طور پر مشہور 17ویں صدی کی عمارت تاج محل کو ماحولیاتی ا لودگی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ تاج محل کو دیکھنے کے لیے ہر سال لاکھوں افراد ہندوستان کے شہر ا گرہ کا رخ کرتے ہیں سیاحوں کی ا مد سے ا مدن بھی کافی ہوتی ہے۔ا گرہ میں تاج محل کے قریبی علاقوں میں گوبر کو گھریلو ایندھن کے طور پر استعمال کیا جانا عمومی بات ہے کیونکہ یہ غربت کے شکار ملک کے شہریوں کے لیے سستے ایندھن کا کام کرتا ہے۔تاج زون کے چئیرمین پردیپ بھتنگر کا کہنا ہے کہ گائے کے فضلے کو جلائے جانے سے کاربن کا اخراج ہوتا ہے جس سے تاج محل کی تعمیر میں استعمال کیا گیا سفید ماربل متواتر پیلا ہوتا جا رہا ہے۔
پردیپ بھتنگر کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ تاج کی رنگت میں ا نے والے فرق کے باعث تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ ہونے والے اجلاس میں حتمی طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ا گرہ کے شہری علاقے میں مکمل طور فضلا جلائے جانے پر پابندی ہوگی۔شہر کی خوبصورتی کے حوالے سے چیئرمین تاج زون نے کہا کہ اس میں شہر کے جمالیاتی حسن کو بھی برقرار رکھنے کا معاملہ شامل ہے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ شہر کی دیواروں پر گوبر تھونپا ہوا نظر ائے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی اور ہندوستانی ماہرین نے تاج محل کے حوالے سے ایک مشاہداتی مطالعہ انجام دیا تھا جس میں مٹی اور کاربن جیسی ا?لودگی کو تاج پر اثر انداز ہونے کی اہم وجہ قرار دیا گیا تھا۔

پردیپ بھتنگر نے بتایا کہ ہم مٹی کے حوالے سے تو بہت کچھ نہیں کر سکتے مگر کاربن کا اخراج نامیاتی (ا?رگئانک) مادوں کو جلائے جانے سے پیدا ہو رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…