جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

پاکستان میں کتنے افراد ٹیکس دیتے ہیں؟ اسٹیٹ بینک کے سابق گورنرکا ناقابل یقین انکشاف

datetime 22  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بے اے) کے سربراہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں صرف 10لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں، ہماری حکومت غریب اور پرائیویٹ سیکٹر دولت مند ہے، فقط عملدرآمد سے ملک میں معاشی ترقی کا حصول ممکن ہے، گیس سیکٹر میںصرف بدانتظامی سے اربوں روپوں برباد ہوجاتے ہیں۔ یہ بات انھوں نے پیر کو بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی آڈیٹوریم میں المنائی کلب آئی سی سی بی ایس کے تحت منعقدہ ایک خصوصی لیکچر کے دوران کہی۔اس موقع پر سابق وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی اور ہائراےجوکےشن کمےشن پاکستان کے سابق سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن ،جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر سعید سیفی سمیت جامعہ کراچی کے دیگراساتذہ اور طلبہ وطالبات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا مزید منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں ہے اس وقت فقط عملدرآمد کی ضرورت ہے تاکہ ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے، عملدرآمد کا تعلق 80 فیصد عام عوام سے ہے جبکہ 20 فیصد حکومت سے ہے، ملکی ترقی میںہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، اکیسویں صدی میں معلومات سماجی اور معاشی ترقی کی ڈرائیونگ فورس بن چکی ہے، ملک کو معلومات پر مبنی معیشت کی ضرورت ہے، جاپان کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا جاپان میںگویا قدرتی وسائل نہیں ہیں لیکن اس ملک نے فقید المثال ترقی کی ہے، 60 کی دہائی سے قبل پاکستان کی برآمدات ملائشیاءاور انڈونیشیاءکی مشترکہ برآمدات سے زیادہ تھیں، معیشت کی تبدیلی میں 25 سے 30 سال کا عرصہ لگتا ہے، پاکستان کو اب اس سفر پر گامزن ہوجانا چاہیے، ایک ایسی معیشت نے جس میں پرائیویٹ سیکٹر ٹیکس نہیں دیتا ہے پاکستان میں حکومتوں کو کمزور رکھا ہے جبکہ حکومتوں کے مقابلے میں پرائیویٹ سیکٹر مالی اعتبار سے مستحکم ہے، موجودہ حکومت کی ترجیحات میں صرف انفرااسٹرکچر شامل ہے جبکہ ملک میں گیس اور پاور کی مانگ میں مذید اضافہ ہوا ہے لیکن ہم نے توانائی کی قلت کے حل کے لئے کوئی ٹھوس قدم ابھی تک نہیں اُٹھایا ہے، انھوںنے کہا طالب علموں کو چاہیے کہ وہ افضلیت و برتری کے لئے اور حصولِِ علم کے جذبہ سے سرشار ہوکر پڑھیں، اس میں فقط معاشی مفادات پیشِ نظر نہیں ہونے چاہیں، ہمارے ملک میں اساتذہ کا المیہ یہ ہے کہ وہ فروغِ علم سے زیادہ معاشی مفادات اور ترقی کی منازل کے حصول پر توجہ دیتے ہیں۔ پروفیسر عطا الرحمن نے ڈاکٹر عشرت حسین کی قومی خدمات کی تعریف کی اور کہا کہ ان کا خطاب ہمارے طالب علموں اور محقیقین کے لئے انتہائی فکر انگیز ثابت ہوگا۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…