پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ایف بی آر کے خود کار نظام کی خامیوں نے انکم ٹیکس آڈٹ بھی روک دیا

datetime 20  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکشاف کیا ہے کہ آٹومیٹڈ سسٹم آئی آر ای ایس میں خامیوں کے باعث ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کا عمل رک گیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی آڈٹ پالیسی 2015 کے تحت 14 ستمبر 2015کو ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز میں وزیرخزانہ اسحق ڈار کی زیر صدارت بے ترتیب کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے ٹیکس ایئر 2014 کے آڈٹ کے لیے منتخب ہونے والے 75 ہزار 871 ٹیکس دہندگان میں سے انکم ٹیکس آڈٹ کے لیے منتخب ہونے والوں کا آڈٹ آئی آر ای ایس کے ذریعے جبکہ سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے ا?ڈٹ کے لیے منتخب ہونے والوں کا آڈٹ پراسیس ٹیکس آڈٹ مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے کیا جانا ہے۔
دستاویز کے مطابق انکم ٹیکس آڈٹ کے لیے کارپوریٹ سیکٹر سے 1ہزار 954 اور نان کارپوریٹ سیکٹر سے 65 ہزار 439 افراد کو منتخب کیا گیا تھا جن کا آڈٹ ہونا ہے۔ دستاویز میں بتایا گیاکہ آئی آر آئی ایس سسٹم میں بڑے پیمانے پر خامیوں کے باعث ان ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کا عمل رک گیا ہے کیونکہ اس آن لائن سسٹم کے ذریعے آڈٹ نوٹس کے ٹیکس دہندگان کی جانب سے بھجوائے جانے والے جوابات متعلقہ افسر کے ان باکس میں ظاہر نہیں ہوتے جس کی وجہ سے آڈٹ مزید پروسیس نہیں پارہا۔
دستاویز میں بتایا گیاکہ مذکورہ نقائص کے باعث فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس دہندگان کو آڈٹ نوٹس کے مینوئل (دستی) جوابات جمع کرانے کی اجازت دے دی ہے مگر یہ جوابات ا?ئی ا?ر ای ایس میں اپ لوڈ نہیں ہو پا رہے اور وہ بھی متعلقہ افسران کے ان باکس میں ظاہر نہیں ہورہے ہیں اس کی وجہ سے بھی مسائل پیدا ہورہے ہیں جس پر ایف بی آر نے پرال کو ہدایت کی ہے کہ خودکار نظام میں ٹیکس دہندگان کے دستی جوابات کو اپ لوڈ کرنے کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ جوابات متعلقہ افسران کے ان باکس میں ظاہر ہوسکیں اور آڈٹ کا پروسیس آگے چل سکے۔
ذرائع نے بتایا کہ آئی آرآئی ایس سسٹم میں نہ تو ٹیکس دہندگان کو ا?ڈٹ نوٹس کے حوالے سے ریمائنڈر بھجوانے کا کوئی آپشن موجود ہے اور نہ ہی ٹیکس دہندگان کو جوابات نہ دینے پر یکطرفہ کارروائی کا ا?رڈر جاری کرنے کا آپشن موجود ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی ہدایت پر آئی آر آئی ایس سسٹم میں پائی جانے والی خامیاں دور کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں تاہم نقائص زیادہ ہیں اس لیے ان کو مرحلہ وار دور کیا جارہا ہے اور مسائل میں کمی کے لیے اختیارات کو بھی نچلی سطح تک منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ سسٹم چلے اور ٹیکس دہندگان کو درپیش مشکلات دور ہوسکیں البتہ سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے حوالے سے ا?ڈٹ کا سسٹم درست طور پر کام کررہا ہے اور اس سیکٹر میں آڈٹ کیس پروسیس ہورہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…