جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

ایل این جی منصوبے کے معاہدے پردستخط

datetime 14  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک ) پاکستان اور قطر نے بولی کے قانونی طریقہ کار کے بغیر ہی16ارب ڈالر مالیت کے ایل این جی منصوبے کے معاہدے پردستخط کر دیے۔معاہدہ 15مارچ2015ءسے نافذالعمل ہوگا،حکومت نے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کی تشکیل پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق وزارت پٹرولیم نے 15 مارچ 2015ءسے موثرقطر سے ایل این جی کی درآمد کے اس جی ٹو جی (گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ) معاہدے کی تفصیلات اقتصادی رابطہ کمیٹی ( ای سی سی) کی جانب سے قائم کی گئی ایک کمیٹی کو پیش کیں۔ قبل ازیں وزارت پٹرولیم نے اقتصادی رابطہ کمیٹی سے پی ایس او کیلیے قطر گیس سے ایل این جی کی خریدو فروخت کے معاہدے کی منظوری لینے کی کوشش بھی کی تھی تاہم یہ کوشش اس وقت ناکام ہوگئی تھیں جب وفاقی سیکریٹری قانون نے اس معاہدے کے حوالے سے اعتراض اٹھایا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیکریٹری قانون اس حوالے سے ا?ئندہ اجلاس میں اپنی رپورٹ پیش کرینگے جس کی روشنی میں اقتصادی رابطہ کمیٹیپی ایس او اور قطرکے درمیان ایل این جی کی خرید و فروخت کے اس کمرشل معاہدے کی منظوری دیگی۔پی ایس او اس جی ٹو جی معاہدے کے تحت قطر سے ایل این جی کے6 کارگو پہلے ہی درآمد کر چکا ہے۔ حکام کے مطابق ایل این جی کی قیمت برینٹ کروڈ آئل کی ڈائریکٹ شرح سے منسلک کی جا چکی تھی اور کروڈ آئل کی موجودہ قیمت کے تحت ایل این جی سپلائی کی قیمت (خریدو فروخت کے معاہدے) کے تحت تقریبا16ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔اس منصوبے کی میعاد دسمبر2030 تک ہوگی تاہم معاہدے کے تحت فریقین ایل این جی کی قیمتوں پر ہر10 سال بعد نظر ثانی کر سکیں گے، پاکستان اور قطر کو یہ حق بھی حاصل ہوگا کہ قیمتوں کے حوالے سے اتفاق نہ ہونے کی صورت میں وہ خرید و فروخت کے معاہدے کو ختم کر سکیں۔معاہدے کے تحت پاکستان اسٹیٹ آئل(پی ایس او) قطر گیس ٹو کمپنی(کیو جی ٹو) سے سالانہ1.5ملین ٹن سالانہ ایل این جی حاصل کریگا جبکہ دوسرے سال سے یہ پیداوار3 ملین ٹن سالانہ ہوجائیگی۔
پی ایس او کا اہم کاروبار تو آئل ہے تاہم اب وہ یہ دوسراکاروبار بھی شروع کرنے جا رہا ہے۔معاشی فیصلہ ساز باڈی کی جانب سے امید تھی کہ وہ پی ایس او کو یہ ایل این جی سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس کمپنی کو فروخت کرنے کی اجازت دے دے گئی۔پی ایس او کو یہ ایل این جی تیسری پارٹی کو فروخت کرنے کی اجازت بھی ہوگی۔قطر کیخریدو فروخت کے اس معاہدے میںخواہش تھی کہ قطر گیس،ایل این جی اپنی ہی کمپنی قطر لیکویفائیڈ گیس کمپنی3کے ذریعے فراہم کریگی تاہم اب قطر گیس نے ایل این جی قطر گیس2کے ذریعے فراہم کرنے کی تجویز دی ہے۔نیا مجوزہ منصوبہکے تحت امریکی کمپنی کونوکو فلپس کو قطر گیس تھری کے شئیر ہولڈر کی حیثیت سے پاکستانی مارکیٹ پر قبضے سے محروم کر دیا گیا ہے جو کہ قطر پٹرولیم،کونوکو فلپس اور مٹ سوئی کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…