اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

کراچی کے قریب آئل ٹینکر اور بس تصادم میں 59 افراد ہلاک

datetime 11  جنوری‬‮  2015 |

کراچی۔۔۔۔پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی کے قریب ایک مسافر بس کی تیل لے جانے والے ٹینکر سے ٹکر کے نتیجے میں 59 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔جناح ہسپتال کی ترجمان ڈاکٹر شیمی جمالی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جناح ہسپتال 59 لاشیں لائی جا چکی ہیں جبکہ چار افراد معمولی زخمی ہیں جنہیں طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سیمی جمالی کا ہنا تھا کہ 59 لاشیں جو ہسپتال لائی گئیں وہ مکمل طور پر جل چکی تھیں۔ ’اب تک کسی بھی لاش کی شناخت نہیں ہو سکی ہے کیونکہ تمام لاشیں جلی ہوئی ہیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا ’یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے کتنے خواتین اور بچے ہیں کیونکہ لاشیں مکمل طور پر جل چکی ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ الاشوں کے ڈی این اے نمونے لے لیے گئے ہیں اور اسی کے ذریعے ہی شناخت ممکن ہے۔ہمارے نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق اس سے قبل کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے حادثے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ حادثہ سنیچر کی شب ساڑھے گیارہ بجے کے قریب گلشنِ حدید کو لانڈھی سے ملانے والی لنک روڈ پر کاٹھور پْل کے قریب پیش آیا اور مسافر بس کراچی سے شکارپور جا رہی تھی۔تصادم کی آواز سن کر وہ موقع پر پہنچے تو بس کے ایک حصے میں آگ لگی ہوئی تھی۔ بس کی چھت پر سوار کچھ افراد نے چھلانگیں لگاکر اپنی جانیں بچائیں۔
اے ایس آئی رب نواز
شعیب احمد صدیقی کا کہنا تھا کہ آئل ٹینکر اوور ٹیک کرتے ہوئے سامنے سے آنے والی مسافر بس سے ٹکرا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ آئل ٹینکر کا ڈرائیور فرار ہوگیا ہے۔اس علاقے کے تھانے میمن گوٹھ کے اے ایس آئی رب نواز جو جائے حادثہ کے قریب ہی واقع ایک پولیس چوکی پر موجود تھے اور اس واقعے کے عینی شاہد بھی ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تصادم کی آواز سن کر وہ موقع پر پہنچے تو بس کے ایک حصے میں آگ لگی ہوئی تھی۔ بس کی چھت پر سوار کچھ افراد نے چھلانگیں لگاکر اپنی جانیں بچائیں۔‘رب نواز کے مطابق بس میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار تھے اور مرنے والے افراد کی لاشیں مکمل طور پر جل کر کوئلہ بن گئی ہیں اور کسی کی شناخت انتہائی مشکل عمل ہوگا۔یاد رہے کہ 11 نومبر 2014 کو سندھ ہی میں خیرپور کے قریب ٹیڑھی بائی پاس پر مسافر بس اور ٹرالر میں تصادم کے نتیجے میں 59 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوگئے تھے۔اسی حادثے کے بعد سندھ ہائی کورٹ سکھر میں حادثے کے خلاف شمس راجپر نامی وکیل نے ایک آئینی درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ قومی شاہراہ ایک بڑے عرصے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس وجہ سے اس قسم کے خوفناک اور دردناک حادثات پیش آتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…