منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پورا گاؤں سوتا ہے تو جاگ ہی نہیں سکتا،ایسی بیماری جو دنیا بھر کے ڈاکٹروں کیلئے پریشانی کا باعث بن گئی

datetime 9  جنوری‬‮  2015 |

استانہ۔۔۔۔وسطی ایشیا کے ملک قزاقستان کے ایک گاؤں کے رہائشیوں کو نیند کی ایک عجیب اور پراسرار بیماری کی وجہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔قزاقستان کے شمال میں واقع گاؤں کلاچی کے رہائشیوں کو گذشتہ دو سال سے نیند کی ایک ایسی بیماری کا سامنا ہے جس کی وجوہات کے بارے میں ڈاکٹروں کو تاحال کوئی اندازہ نہیں ہو سکا ہے۔اس بیماری میں لوگ اچانک سو جاتے ہیں اور پھر کئی کئی دن تک نہیں جاگتے۔بیماری کا شکار افراد یادداشت میں کمی کی شکایت بھی کرتے ہیں جبکہ بعض کیسوں میں ہذیان کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔گاؤں میں ایک سو کے قریب ایسے کیس سامنے آ چکے ہیں اور اس بیماری کو’Sleepy Hollow‘ یا کثرتِ خواب کا نام دیا گیا ہے اور اس میں بعض افراد ایک سے زائد بار متاثر ہوئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق اب ہمسایہ اضلاع کے حکام نے اس گاؤں کے رہائشیوں کو پیشکش کی ہے کہ وہ ان کے علاقے میں آ کر آباد ہو سکتے ہیں اور ملازمتیں کر سکتے ہیں۔
انٹرفیکس کے مطابق ضلع ایفیلے کے سربراہ ساؤلے اگیمباییوا نے کہا ہے کہ دوسری جگہ بسانے میں ترجیح ایسے خاندانوں کو دی جائے گی جن میں بچے اور عورتیں شامل ہوں۔
اطلاعات کے مطابق 582 افراد، جو گاؤں کی آبادی کا نصف بنتے ہیں، ان کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔
اس بیماری سے بچے اور بڑے دونوں متاثر ہوتے ہیں۔اگور سیموسینکی کا بیٹا اس بیماری سے متاثر ہوا ہے۔ انھوں نے رشیا ٹو ڈے کو بتایا کہ ’اگر آپ اس کو اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں، تو ایسا لگتا ہے کہ وہ آنکھیں کھولنا چاہتا ہے لیکن ایسا کر نہیں پاتا۔‘ابھی تک ڈاکٹر اس بیماری کی تشخیص نہیں کر پائے ہیں جبکہ بعض نے اسے بڑے پیمانے پر ذہنی عارضہ قرار دیا ہے۔بعض دوسرے لوگوں کے خیال میں چونکہ گاؤں یورینیئم کی سابقہ کان کے نزدیک واقع ہے اور اس وجہ سے یہ بیماری لاحق ہو رہی ہے۔اس کان کو دو سال پہلے بند کر دیا گیا تھا تاہم اس واقعے کے بعد گاؤں کی مٹی اور پانی کے نمونوں کی جانچ کی گئی لیکن ان میں کسی قسم کی تابکاری یا کوئی اور مسئلہ سامنے نہیں آیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…