ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

خیبر پختونخوا کی صحافت کا ایک روشن ستارہ ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیا

datetime 9  جنوری‬‮  2015 |

لاہور۔۔۔۔پاکستان کے خیبر پختونخوا کے سینئیر صحافی اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر شیخ سلیم اللہ انتقال کر گئے ہیں۔صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جمعرات کو انھوں نے وفات پائی۔ ان کا شمار نڈر اخبار نویسوں میں ہوتا تھا۔شیخ سلیم اللہ نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز اپنے والد شیخ ثناء4 اللہ کے انگریزی اخبار ’خیبر میل‘ سے کیا جو اس صوبے کا پہلا انگریزی روزنامہ بھی تھا۔انھوں نے ’سب ایڈیٹر‘ کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا اور بعد میں ترقی کرتے ہوئے ’نیوز ایڈیٹر‘ کے عہدے تک جا پہنچے۔
ان کا صحافتی کیریئر تقریباً 40 سال پر محیط رہا اور اس دوران وہ مختلف اخبارات کے ساتھ منسلک رہے۔
شیخ سلیم اللہ اسلام آباد سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ’پاکستان ابزرور‘ پشاور بیورو کے ساتھ بھی مختصر عرصہ تک مسنلک رہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ پشاور سے شائع ہونے والا انگریزی اخبار ’دی فرنٹیر سٹار‘ کے مدیر بھی رہے۔شیخ سلیم اللہ صحافتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کارکن صحافیوں کے حقوق کیحوالے سے بھی خاصے سرگرم رہے۔وہ ایسے وقت میں پشاور کے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم خیبر یونین جرنلسٹس کے صدر تھے جب ملک میں مارشل لا کا دور تھا۔ اس کے باوجود انھوں نے صحافیوں کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی۔شیخ سلیم اللہ پشاور پریس کلب کے جنرل سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ان کا خاندان اس صوبے میں انگریزی صحافت کا بانی بھی سمجھا جاتا ہے۔ وہ ایک شفیق استاد کے طور پر بھی شہرت رکھتے تھے۔پشاور کے سینئیر صحافی اور انگریزی اخبار ’دی فرنٹیر سٹار‘ کے چیف ایڈیٹر حافظ ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ شیخ سلیم بے باک صحافی تھے جنھوں نے ساری زندگی صحافت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
ادھر ملک بھر سے صحافیوں نے شیخ سلیم اللہ کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے سینئیر صحافی اور انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ کے گروپ ایڈیٹر شاہین صہبائی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ شیخ سلیم اللہ ان کے پہلے استاد تھے جنھوں نے انھیں پروف ریڈنگ سکھائی۔شیخ سلیم اللہ چند سال پہلے پشاور چھوڑ کر لاہور منتقل ہوگئے تھے۔ انھوں نے اپنے پیچھے بیوہ، دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو سوگوار چھوڑا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…