جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

4 ماہ میں برآمدات میں ایک ارب ڈالرکی کمی، وزارت خزانہ کوتشویش

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران برآمدات میں ایک ارب ڈالرکی کمی نے وزارت خزانہ کوتشویش میں مبتلا کردیاہے،پالیسی سازوں او ر متعلقہ وزارتوں نے برآمدات میں کمی کے عوامل کاپتہ لگاکر اسکے فوری سدباب کیلئے برآمدکنندگان سے مشاورت کافیصلہ کرلیا ہے۔وفاقی وزیرخزانہ سینیٹر اسحٰق ڈار نے جمعے کوکونسل آف ٹیکسٹائلزایسوسی ایشنزکے چیئرمین زبیرموتی والاکی قیادت میں17رکنی وفدسے ملاقات میں بتایاکہ برآمدات میں کمی کارحجان تشویشناک ہے اوروفاقی حکومت برآمدات میں کمی کے عوامل سے آگاہ ہونے کے بعدان کا سدباب کرنے کے تیارہے،وزیرخزانہ نے ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مسائل حل کرنے کے لیے آئندہ ہفتے اجلاس طلب کرنے کاعندیہ دیتے ہوئے کہاکہ اجلاس میں ایف بی آرسمیت تمام متعلقہ اداروںکوبھی طلب کیا جائیگا۔ اسحٰق ڈار نے کہا کہ حکومت کسی بھی قسم کے خام مال پرکوئی نیاٹیکس عائدنہیں کرے گی بلکہ حال ہی میں صرف درآمدہ اشیائے تعیش پر40 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کیے گئے ہیں،وزیرخزانہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ 180 ارب روپے کے سیلزٹیکس ریفنڈکے علاوہ ڈی ایل ٹی ایل کے کلیمزبھی زیرالتوا ہیں تاہم حکومت انھیں ادا کرے گی۔دوران ملاقات کونسل آف ٹیکسٹائلزایسوسی ایشنز کے چیئرمین زبیرموتی والا نے وزیرخزانہ کو بتایا کہ ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹرکی برآمدات میں ہونے والی کمی درحقیقت زائد پیداواری لاگت کی وجہ سے ہورہی ہے کیونکہ پاکستان میں پیداواری لاگت حریف ملک بھارت کی نسبت11 فیصد اوربنگلہ دیش کی نسبت14 فیصدمہنگی ہے اورعالمی کساد بازاری کے ماحول میں غیرملکی خریدارپاکستانی مصنوعات11 تا 14 فیصدزائد قیمتوں پر خریداری کیلئے تیار نہیں ہے اوروہ بھارت اور بنگلہ دیشی مصنوعات کوترجیح دے رہاہے، انھوں نے بتایا کہ بھارت کی برآمدی صنعتیں ان گنت حکومتی مراعات وترغیبات سے استفادہ کررہی ہیں،بھارتی حکومت نے عالمی منڈی میں پاکستانی برآمدکنندگان کونکال باہر کرنے کیلیے اپنی صنعتوں کووسیع ترغیبات فراہم کرنے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے جن کاحکومت پاکستان کو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔انھوں نے وزیرخزانہ سے مطالبہ کیا کہ وہ گیس پر جی آئی ڈی سی ختم اور پاوراینڈ گیس ٹیرف کو حریف ملکوں بھارت اور بنگلہ دیش میں رائج ٹیرف کے مساوی لائے اور پیداواری لاگت کو بھی حریف ممالک کے مساوی کیا جائے، سیلزٹیکس ودیگر ریفنڈزکی ادائیگیوں کا تیز رفتار میکانزم متعارف کرانے کے علاوہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی بقا کیلئے تیزرفتار اقدامات بروئے کار لائے تاکہ پاکستانی برآمد کنندگان عالمی مارکیٹوں میں اپنے حریفوں کے ساتھ مسابقت کے قابل ہوسکیں۔اجلاس میں ویلیوایڈڈٹیکسٹائل سیکٹر کے نمائندوں محمد جاوید بلوانی، سلیم پاریکھ، رفیق گوڈیل، ثاقب بلوانی ودیگر بھی موجود تھے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…