نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں
جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘آپ اس میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر +92 332 5362221 پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم 0310 5366774 موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا بلوچستان کا فجی کے ساتھ بھی کوئی تعلق ہو سکتا ہے‘ مجھے جون 2016ء میں فجی جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پیسفک اوشن کا انتہائی خوب صورت ملک ہے‘ وہاں جا کر احساس ہوتا ہے جنت کیسی اور کتنی خوب صورت ہو گی۔میں 29 جون کی رات فجی کے دارالحکومت سوہا میں تھا‘ ہوٹل کی بالکونی سے پارلیمنٹ کی عمارت دکھائی دے رہی تھی‘ ہوٹل کی پشت پر سمندر تھا‘ سمندری ہوائیں عمارتوں سے بچ بچا کر پارلیمنٹ تک آتی تھیں‘ عمارت سے ٹکراتی تھیں اور پلٹ کر ہوٹل کی بالکونی میں بکھر جاتی تھیں‘ میں اندھیرے میں بیٹھ کر رات کی گہرائی کو محسوس کر رہا تھا‘ اچانک فون کی گھنٹی بجی‘ کوئی صاحب ہوٹل کی ریسیپشن پر کھڑے تھے‘ میں پریشان ہو گیا‘ اجنبی شہر‘ ایک دن کا قیام اور کوئی رات کے وقت آپ سے ملنے آ جائے‘ بات پریشانی کی تھی‘ میں لابی میں آگیا‘ میرے سامنے ایک بزرگ شخص کھڑے تھے‘ میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا‘ وہ مجھے تلاش کرتے کرتے یہاں پہنچے تھے‘ نام عبدالقادر تھا‘ وہ مجھے کوئی راز بتانا چاہتے تھے‘ ان کا کہنا تھا‘ وہ یہ راز دس سال سے سینے میں دبا کر پھر رہے ہیں لیکن انہیں کوئی مناسب پاکستانی نہیں مل رہا۔ میں نے ان سے پوچھا آپ مجھ تک کیسے پہنچے؟ ان کا کہنا تھا آپ شام کے وقت افطار ڈنر میں مدعو تھے‘ کسی پاکستانی ڈاکٹر نے آپ کی تصویر فیس بک پر شیئر کر دی‘ وہ تصویر مجھ تک پہنچی‘ میں نے گوگل اور فیس بک پر آپ کا پروفائل دیکھا اورآپ کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا اور آپ سے ملاقات ہو گئی‘ ان کا کہنا تھا وہ تین نسلوں سے فجی کے شہری تھے‘ ان کا دادا 1906ء میں جالندھر سے نادی آیا‘ والد اس وقت چھوٹے تھے اور جالندھر میں رہتے تھے‘ دادا نے 1920ء میں اسے بھی نادی بلا لیا‘ والد نے لیٹ شادی کی‘ وہ پیدا ہوئے اور پیچھے سے ملک تقسیم ہو گیا‘ ان کا باقی ماندہ خاندان پاکستان چلا گیا‘ وہ آج تک کنفیوز ہیں‘ وہ ہندوستانی ہیں یا پاکستانی‘ وہ کبھی بھارت یا پاکستان نہیں گئے لیکن دل میں پاکستان کے لیے محبت محسوس کرتے ہیں اور یہ محبت انہیں کھینچ کر میرے ہوٹل تک لے آئی‘ میں پوری دل چسپی سے ان کی داستان سنتا رہا‘ بزرگ نے بیک گرائونڈ بتانے کے بعد وہ راز بتانا شروع کر دیا جو ہماری ملاقات کی وجہ بن رہا تھا۔
بزرگ نے بتایا ’’بھارت کے خارجہ امور کے وزیر مملکت ای احمد اکتوبر 2006ء میں فجی کے دورے پر آئے تھے‘ وہ کیرلہ کے رہنے والے ہیں‘ مسلمان ہیں اور پرانے سیاست دان ہیں‘ یہ بھارت میں انڈین یونین مسلم لیگ کے صدر بھی ہیں‘ یہ 1965ء سے سیاست میں ہیں‘ پانچ بار کیرلہ کی صوبائی اسمبلی کے رکن بنے‘ یہ کیرلہ کے صوبائی وزیر بھی رہے‘ یہ 1991ء سے سات بار بھارت کی قومی اسمبلی لوک سبھا کے رکن الیکٹ ہوئے‘ تین بار منسٹر فار سٹیٹ بھی رہے‘ وہ دو بار بھارت میں خارجہ امور کے سٹیٹ منسٹر بنے‘ پڑھے لکھے ہیں‘ یہ چار کتابوں کے مصنف ہیں اور سات آٹھ حج کر چکے ہیں چناںچہ یہ ہر لحاظ سے سینئر‘ سیریس اور مدبر ہیں‘ دنیا کا شاید ہی کوئی شخص ان کی بات کو غیر سنجیدہ لے سکے‘ یہ اکتوبر 2006ء میں فجی کے دورے پر آئے‘ یہ انڈین سفارت خانے کے مہمان تھے‘ ای احمد نے دورے کے آخر میں فجی کے بھارتی مسلمانوں سے ملاقات کی فرمائش کی‘ بھارتی سفیر نے فجی کی مسلم لیگ سے رابطہ کیا‘ ہم نے بھارتی سفارت خانے کی درخواست پر نادی میں ای احمد کے لیے ریسیپشن کا بندوبست کر دیا‘ وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھ گئے‘ سفارت خانے کے لوگ سائے کی طرح ان کے ساتھ تھے‘ وہ انہیں باتھ روم میں بھی اکیلا نہیں جانے دے رہے تھے‘ ای احمد آخر میں چائے لینے کے لیے اٹھے تو میں سیدھا ان کے پاس چلا گیا‘ سیکورٹی اور سفارت خانے کے لوگ اس وقت چائے پینے میں مصروف تھے‘ میں نے وزیر صاحب کو سلام کیااور اپنا تعارف کرایا‘ان دنوں جنرل پرویز مشرف نے انڈیا کے ساتھ ٹریک ٹو ڈپلومیسی شروع کی تھی‘ پاکستان اور بھارت میں شہریوں کی آمدورفت شروع ہوئی تھی اور حالات بہتری کی طرف جا رہے تھے لہٰذا میں نے ان سے پوچھا ‘بھارت اور پاکستان کے درمیان آج کل ٹریک ٹو ڈپلومیسی چل رہی ہے‘ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ ای احمد نے مجھ سے پوچھا ’’آپ کا تعلق کس دیش سے ہے‘‘ میں نے جواب دیا ’’میرے دادا جالندھر سے آئے تھے‘‘ وزیر نے سر ہلایا اور بولے ’’ٹریک ٹو ہو‘ تھری ہو یا فور ہو‘ کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا‘‘ میں نے پوچھا ’’کیوں؟‘‘ وزیر نے جواب دیا ’’بھارت نے فیصلہ کر لیا ہے اول ہم کشمیر کی ایک انچ زمین پاکستان کو نہیں دیں گے ‘دوم ہم پاکستانی کشمیر پر بھی قبضہ کریں گے‘‘ میں نے پوچھا ’’یہ فیصلہ کس نے کیا؟‘‘ ای احمد کا جواب تھا ’’یہ فیصلہ بی جے پی‘ کانگریس اور انڈین آرمی تینوں نے مل کر کیا‘ ہم سب کشمیر کے معاملے میں متفق ہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’لیکن کشمیر میں بہت لوگ مر رہے ہیں‘یہ لوگ کب تک مرتے رہیں گے‘‘ ای احمد نے سخت لہجے میں جواب دیا ’’آپ فکر نہ کریں‘ ہم نے میکسی مم نقصان کا اندازہ کر لیا ہے‘
ہم بڑا ملک ہیں‘ ہماری اکانومی بھی اچھی ہے‘ ہم ہر قسم کا نقصان برداشت کر لیں گے لیکن پاکستان ہمارے مقابلے میں دس فیصد بوجھ بھی نہیں سہہ سکے گا‘ یہ ٹوٹ جائے گا‘‘ بزرگ نے ماتھے سے پسینہ صاف کیا‘ لمبی سانس لی اور بولے’’میں وزیر کی بات پر پریشان ہو گیا‘ میں نے اس سے پوچھا‘ مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آئی‘ وزیر نے واضح لہجے میں جواب دیا‘ پاکستان نے 1980ء کی دہائی میں بھارت کیلئے دو گڑھے کھودے تھے‘ خالصتان اور کشمیر‘ پاکستان کا خیال تھا بھارت کی سفارت کاری خالصتان کے ایشو پر ناکام ہو جائے گی‘ ہم دنیا کو جواب نہیں دے سکیں گے‘ دوسری طرف ہماری فوج کشمیر میں لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک جائے گی یوں ہم پاکستان سے کمپرومائز پر مجبور ہو جائیں گے‘ اس میں کوئی شک نہیں ہمیں ان دونوں گڑھوں سے بہت نقصان پہنچا۔ ہم خالصتان کے ایشو پر بیک فٹ پر آ گئے‘ ہمیں کشمیر میں بھی اپنی آدھی فوج لگانا پڑی‘ ہم 25 سال سے کشمیر میں سات لاکھ فوجیوں کا خرچ اٹھا رہے ہیں‘ پاکستان نے یہ گڑھا بہت خوب صورتی سے کھودا تھا‘ دنیا کے کسی بھی ملک کیلئے 25 سال تک سات لاکھ فوجیوں کے اخراجات برداشت کرنا آسان نہیں‘ ملک تھک جاتے ہیں‘ آپ سوویت یونین کی مثال لے لیں‘وہ افغانستان میں دس سال لڑ کر تھک گیا اور آخر میں ٹوٹ کر بکھر گیا‘ ہمارے بارے میں بھی پاکستان کا خیال تھا ہم تھک جائیں گے اور مذاکرات کے لیے مجبور ہو جائیں گے لیکن ہم نے جیسے تیسے وہ وقت گزار لیا‘ ہم اب اسی قسم کا ایک گڑھا پاکستان کے لیے کھود رہے ہیں‘ ہم افغانستان اور ایران کو پاکستان کے لیے ایل او سی اور بلوچستان کو کشمیر بنا رہے ہیں‘ پاکستان نے ہمیں آدھی فوج کشمیر میں لگانے پر مجبور کیا تھا‘ ہم نے اگر اس کی پوری فوج افغانستان اور ایران کے بارڈر پر نہ لگوائی‘ ہم نے اگر بلوچستان میں کشمیر جیسے حالات پیدا نہ کیے تو آپ بھارت کا نام بدل دیجیے گا‘‘میں نے وزیر صاحب سے پوچھا‘ آپ یہ کریں گے کیسے؟ وزیر نے ہنس کر جواب دیا‘ ہم یہ کر چکے ہیں‘ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے وہ افغانستان اور وہ ایران جو کبھی پاکستان کا مورچہ ہوتا تھا وہاںپاکستان کے خلاف نعرے لگیں گے‘ وہاں سے پاکستان پر حملے ہوں گے اور پاکستان وہاں اپنی فوجیں لگانے پر بھی مجبور ہو گا‘ آپ اپنی زندگی میں یہ دیکھیں گے وہ بلوچستان جسے پاکستان ٹیلی فون سے چلا رہا ہے وہاں اسے اپنی فوجیں اتارنا پڑیں گی اور بلوچ پاکستان آرمی سے لڑیں گے اور پاکستان جیسے غریب ملک کے لیے اتنے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا‘ یہ آخر کس کس محاذ پر اور کتنی دیر لڑسکے گا‘ پاکستان کی فوج ایل او سی کی حفاظت کرے گی‘ یہ پنجاب اور تھرپارکر کی سرحدوں پر نظر رکھے گی‘ یہ افغانستان اور ایران کے بارڈر کو بچائے گی‘ یہ کراچی اور پشاور کو دیکھے گی یا پھر یہ اپنے جرنیلوں کو سیاست دانوں اور عوام سے بچائے گی‘ یہ آخر کیا کیا کرے گی؟ آپ خود فیصلہ کیجیے‘ وزیر نے کپ میز پررکھا اور سختی سے کہا‘ پاکستان کو اب اپنی خیر منانی ہو گی‘ اسے کشمیر کی بجائے بلوچستان کے بارے میں سوچنا ہو گا‘ وزیر نے بات ختم کی اور سفارت خانے کے لوگوں میں گھل مل گیا لیکن میں اس دن سے ان باتوں پر غور کر رہا ہوں‘‘ بزرگ نے ایک بار پھر اپنا ماتھا صاف کیا اور مجھ سے مخاطب ہوئے ’’میں فجی کا شہری ہوں‘ میرے بزرگ 110 سال پہلے جالندھر سے یہاں آئے تھے‘ ہم نے پاکستان نہیں دیکھا لیکن میں اس کے باوجود اپنے دل میں پاکستان کے لیے محبت محسوس کرتا ہوں‘ آپ خدا کے لیے پاکستان کی حفاظت کریں‘ مجھے آپ کا ملک خطرے میں نظر آ رہا ہے‘‘۔بزرگ اٹھے‘ سلام کیا اور ہوٹل سے نکل گئے۔
وہ 2016ء کا زمانہ تھا‘ بلوچستان اس وقت پرامن تھا‘ افغانستان سے بھی پاکستان کے لیے ٹھنڈی ہوائیں آ رہی تھیں اور ایران سے بھی بارڈر ٹریڈ جاری تھی لہٰذا میں نے بزرگ کی باتوں کو ’’بلاوجہ اندیشہ‘‘ سمجھ کر جھٹک دیا لیکن پھر حالات تبدیل ہونے لگے اور دس برس میں بلوچستان سمیت پورے ملک کی صورت حال وہاں آ گئی جس کا انکشاف فجی کے ہوٹل کی لابی میں اس بزرگ نے کیا تھا‘ مجھے جمعہ 11ستمبر کو 25 صحافیوں کے ساتھ کوئٹہ جانے کا اتفاق ہوا‘ ہم ائیرپورٹ سے بلٹ پروف گاڑیوں میں کینٹ کے علاقے میں پہنچے اور اس کے بعد جہاںبھی گئے ہمیں بلٹ پروف گاڑیوں اور فوج کے پہرے میں جانا پڑا اور یہ وہ شہر تھا جس میں میرے جیسے لوگ سڑکوں پر اکیلے پھرتے اورکھاتے پیتے رہتے تھے‘ کوئٹہ کو کیا ہو گیا؟ اور کیا بلوچستان ڈوب رہا ہے‘ یہ وہ سوال تھا جو گیارہ ستمبر کے بعد بار بار میرے دل میں پیدا ہو رہا ہے‘ ہم یہاں تک کیسے پہنچے اور آگے کا سفر کیسا ہو گا یہ جاننا پورے ملک کا حق ہے لہٰذا ہم آج سے بلوچستان کے حالات پر کالموں کی سیریز شروع کر رہے ہیں‘ میرا خیال ہے شاید اس کے بعد ہمارے قارئین کو مزید کسی تحریر کی ضرورت نہ رہے‘ بلوچستان کی کہانی آج سے 1000 سال پہلے شروع ہوتی ہے (جاری ہے)۔
نوٹ: ای احمد یکم فروری 2017ء کو وفات پا گئے تھے‘ ان کی چند تصاویر اورایک تصنیف کی تصویر نیچے ملاحظہ کریں۔























































