جمعہ‬‮ ، 31 جولائی‬‮ 2026 

محسن نقوی نے جو بیان دیا وہ ان کی ذاتی رائے ہے، پاکستان کی سیکیورٹی کیلئے گڈ گورننس بہت ضروری ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

datetime 31  جولائی  2026 |

راولپنڈی (این این آئی)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے جو بیان دیا وہ ان کی ذاتی رائے ہے،

اس پر بات نہیں کروں گا،پاکستان کی سیکیورٹی کیلئے گڈ گورننس بہت ضروری ہے، گڈ گورننس کے بغیر معاملات حل نہیں ہوسکتے، گڈ گورننس کیلئے کچھ کرنا پڑے گا، سیکیورٹی اور سیفٹی کا دار و مدار گڈ گورننس پر ہے، ریاست ہو گی تو سیاست، شناخت اور تمام ادارے قائم رہیں گے، ریاست کے ساتھ وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے ،حقوق کی بات کرنے والوں کو اپنے فرائض سے بھی آگاہ ہونا چاہیے ،آئین کے آرٹیکل 5 کے مطابق وفاداری صرف ریاست سے ہو گی،ہارڈ اسٹیٹ وہ ہوتی ہے جہاں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلائے جائیں،سیکیورٹی فورسز نے رواں سال اب تک دہشت گردی کے خلاف 40348 آپریشن کیے جن میں 2084 مصدقہ دہشت گرد مارے گئے،دہشتگردوں کو سمجھ آگیا ہے کہ ان سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی، دہشتگردوں کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا ہم انہیں ختم کردیں گے،طالبان حکومت دہشت گردوں کی مدد کر رہی ہے اور بم دھماکوں میں بھی زیادہ تر افغان باشندے ملوث پائے گئے،بلوچستان سے متعلق منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے،جان بوجھ کر یہ تاثر پھیلایا جاتا ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں،ایلیٹ کلاس اور سردار بلوچستان کی ترقی کے خلاف ہیں،جن مسنگ افراد کی فہرستیں دی جاتی ہیں وہ کہیں لڑائی میں مارے جاتے ہیں، معرکہ حق میں ناکامی کے بعد دشمن نے بلوچستان پر توجہ مرکوز کی ،بھارت اور افغانستان کا مشترکہ ایجنڈا دہشت گردی ہے،کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ تھا، ہے اور رہے گا،سعودی عرب خادم حرمین الشریفین ہے، پاکستان محافظ حرمین الشریفین ہے،پاکستان اور یو اے ای برادر ملک ہیں، دونوں کے بڑے گہرے تعلقات ہیں، پروپیگنڈا کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے،شہیدوں کے بارے میں مولانا نے جو بات کی وہ ناقابل فہم ہے۔جمعہ کو انسداد دہشت گردی اور سکیورٹی کے معاملات پریس بریفنگ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ ملک میں 5 سال کے دوران بڑے پیمانے پر انسداد دہشت گردی آپریشنز کیے گئے، بلوچستان میں اب تک 31 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جا چکے ہیں جبکہ کے پی میں 7177 آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال اب تک 819 افراد دہشت گردی کی کارروائیوں میں شہید ہو چکے ہیں، دہشتگردی کے خلاف لڑتے ہوئے آرمی کے 303 جوان شہید ہوئے، 322 شہری بھی دہشت گرد کارروائیوں میں شہید ہوئے۔انہوںنے کہاکہ2084 مصدقہ دہشت گرد مارے گئے، سکیورٹی فورسز نے 194 آپریشن روازانہ کیے ہیں، ہر روز 10 دہشت گرد مارے گئے، مجموعی طورپر 28 خود کش حملوں کے واقعات ہوئے، زیادہ تر بم دھماکوں میں افغان باشندے ملوث ہیں، ٹانک،کراچی میں پیش آنے والے واقعات میں افغانی ملوث تھے، افغانستان کی طالبان رجیم دہشت گردوں کی معاونت کر رہی ہے، افغانستان کی ڈپلومیسی بھی دہشتگردی کیاردگردہے، دہشتگردوں اوران کے سہولتکاروں کو 100 گنا تکلیف دیں گے کہ قیامت تک یادرکھیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ جان بوجھ کر یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں، دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، دہشت گرد یا تو قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر ہم ان کے لڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے متعلق جان بوجھ کر پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ ایلیٹ اور سردار چاہتے ہیں کہ غریب کا بچہ آگے نہ بڑھے، دہشتگردوں کا ایک قبیلہ ہے جس میں اسٹیٹس کو ہے، اسٹیٹس کویہ ہے کہ غریب کا بچہ پڑھے نہیں، ہمیشہ ان کا غلام رہے، انہیں عادت ہے لیویز میری ذاتی فورس ہے، میں اس کا سردارہوں، بلوچستان کا مسئلہ وہاں کے سردار اورایلیٹ طبقہ ہے، ان کو اپنے ذاتی گھروں کی چوکیداری کیلئے لیویزفورس چاہیے، ہم ایلیٹ کلاس اور سردار سے نہیں بلوچستان کے لوگوں سے بات کریں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ لوگ لیویز فورس کو اپنی سرداری فورس سمجھتے ہیں، دوسری صورت میں دہشتگردی کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں، افغان طالبان رجیم کا ایک ہی کام ہے یہ دہشتگردی کوبطورکاروبارکرتے ہیں، افغانستان اوربھارت کے درمیان بی ایل اے کے علاوہ اورکیا چیزمشترکہ ہے، یہ افغانستان نہیں، افغان طالبان رجیم کے زیرقبضہ علاقے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آئین اور قانون سب کیلئے برابر ہے، کیا ہم ہارڈ اسٹیٹ ہیں؟ ہارڈ اسٹیٹ وہ ہوتی ہے جس میں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق ہوں، ہارڈ اسٹیٹ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ملٹری ریاست کو چلا رہی ہے، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ریاست کے ساتھ وفادار ہوں کیونکہ ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست تو ہم سب کی جان ہے، پاکستان ہی ہماری پہلی اور آخری پہچان ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ ہم ان کو باہرنکل کرمار ر ہے ہیں، ہم ان کا شکارکر رہے ہیں، اس لیے اب فتن الخوارج، فتن الہندوستان اور ان کے بھارت میں بیٹھے ہینڈلرز اب سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنا رہے ہیں، اس سال اب تک 178 سویلینز کو شہید کیا جا چکا ہے، انہوں نے 24 مقامات پر پلوں اور سڑکوں کو تباہ کیا، 60 مقامات پر آگ لگائی گئی، یہ ہے ان لوگوں کی احساس محرومی اور ان کا ترقی مخالف ایجنڈا جسے وہ پروان چڑھاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بلوچستان کی بچیوں کے ساتھ ایک واردات ڈال رہے ہیں، ذہنی طور پر ان کو ٹریپ کرکے ان کے ہاتھوں دہشتگردی کراتی ہیں، اس کا ہمارے دین اور کلچر کے ساتھ کوی تعلق نہیں، لاپتہ افراد سیمتعلق کبھی کہا جاتا ہے 10 ہزارکبھی 20 ہزارکہتے ہیں، لاپتا افراد سے متعلق کمیشن بنایا گیاجس میں درخواستیں دی گئیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان سیلوگ خود کہتے ہمارا بھائی یا بیٹا مسنگ ہوگیا اس سے کوئی تعلق نہیں، ایسے مسنگ کا پتہ چلتا ہے کہ وہ بی ایل اے میں شامل ہوگیا ہے، جن مسنگ افراد کی فہرستیں دی جاتی ہیں وہ کہیں لڑائی میں مارے جاتے ہیں، کچھ مسنگ پرسنزگوادر،کوئٹہ،مستونگ میں دہشتگردی میں مارے جاتے ہیں، بلوچستان کی پولیس ان بدمعاشوں کو رگڑنے کیلئے کافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی300 سے زائدبوگس ویب سائٹ بلوچستان کیخلاف پروپیگنڈا کررہی ہیں، بوگس ویب سائٹس مختلف پلیٹ فارمزکے ذریعے نفرت اورتقسیم کو ہوا دے رہی ہیں، ان کے پیچھے ہندوستان کا سائبرہوگا لیکن ہمارا بچہ بچی بھی کم نہیں، ہم بلوچستان کے عوام کو امپاور کرنا چاہتے ہیں اور کررہے ہیں، ہر سال بلوچستان میں آئی ٹی میں 10800 طلبا کو تعلیم دی جاتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 26 لاکھ افغان مہاجرین بھجوائے جاچکے ہیں، جانا ہے تو ویزا لیں، حکومت سے درخواست کریں، رکارڈ پر جائیں اور واپس آئیں، ابھی تک ہم 25 ارب کے قریب اسمگلڈسامان پکڑ چکے ہیں، ہارڈ اسٹیٹ میں اسمگلرز کی جگہ صرف جیل میں ہے، ساڑھے 4 ہزار بندے پکڑے جو ہیومین اسمگلنگ میں ملوث تھے۔وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وزیر داخلہ کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے، گڈ گورننس کے بغیر آپ کے معاملات حل نہیں ہوسکتے، نیشنل ایکشن پلان کے14نکات ہیں جس پرتمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں، پاکستان کی سکیورٹی کیلئے گڈگورننس انتہائی اہم ہے، مسائل حل نہیں ہورہے اس کا مطلب ہے گڈ گورنرنس کیلئے کچھ کرنا پڑے گا،گڈگورننس کے بغیر ملک کے معاملات حل نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کا فیصلہ پکا ہے، اب بھارت نے کچھ تو کرنا ہے، انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں 10 لاکھ کے قریب سیکیورٹی فورسز لگائی ہوئی ہے، 2019 میں بھی طبیعت صاف کی تھی،2025 میں تو اگلی پچھلی طبیعتیں صاف ہوگئیں، مقبوضہ کشمیر کے لوگ ان سے پوچھ رہے ہیں پہلگام میں تمہاری سکیورٹی کدھر تھی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کے اٹوٹ انگ ہیں، کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ تھا، ہے اور رہے گا،

کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے، یہ کشمیریوں نے طے کرنا ہے کہ انہوں نے پاکستان سے ملنا ہے یا بھارت سے، جو کشمیری وہاں سے آئے وہ کیوں چھوڑے کے آئے؟ کیونکہ وہاں ظالم نظام ہے۔آزاد کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں ڈنڈے کے زور پر اپنی منوائیں، ریاست نے مظاہرین سے کہا کہ آپ الیکشن لڑیں،اسمبلی میں آئیں، ان کا ایجنڈا سب کے سامنے واضح ہوتا جارہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اور یو اے ای برادر ملک ہیں، دونوں کے بڑے گہرے تعلقات ہیں، پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات پر سوشل میڈیا پر غیرمنطقی معروضات دی جاتی ہیں، دنیا میں کوئی دو ملک ایسے نہیں ہوتے جن کا ہر چیز پر نقطہ نظر ایک ہو، پروپیگنڈا کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق خاص ہے، اسٹریٹجک تعلق ہے، سعودی عرب خادم حرمین الشریفین ہے، پاکستان محافظ حرمین الشریفین ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہیدوں کے بارے میں جو مولانا نے بات کی وہ ناقابل فہم ہے، آپ کو لگتا ہے وہ یہ سب پیسے کیلئے کرتا ہے؟ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ایسا کیوں کہا گیا، شہادت اور شہید پاکستان کی افواج کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، فلسفہ شہادت کے پیچھے آپ کی افواج اور پولیس کھڑی ہے، جو آپ کے بہادر بچے وطن کا دفاع کرتے شہید ہوئے وہ دلیر ہیں، جب نیوی کا سیلر سمندر میں ڈائیو کرتا ہے تو اپنی زندگی کی قربانی دے چکا ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…