منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

انجکشن دوبارہ استعمال کیے جانے کے باعث ایچ آئی وی وائرس سے 9 بچے جاں بحق، سیکڑوں مرض کا شکار

datetime 2  جولائی  2026 |

کراچی(این این آئی)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے صنعتی ملازمین کے بچوں میں حکومت سندھ کے زیر انتظام اسپتال میں مبینہ طور پر ایچ آئی وی وائرس پھیلنے سے متعلق درخواست پر حکومت سندھ سے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کر لی،

جبکہ مزید سماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی۔دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل طارق منصور ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں مبینہ طور پر استعمال شدہ انجکشن دوبارہ استعمال کیے جانے کے باعث بچوں میں ایچ آئی وی وائرس پھیلا۔ ان کے مطابق 9 معصوم بچے جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ سیکڑوں بچے اس مرض کا شکار ہیں۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 9 بچوں کی ہلاکت کو آٹھ ماہ گزر چکے ہیں، تاہم اب تک کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ قانونی نوٹس کے بعد انکوائری تو کرائی گئی، لیکن اس کی رپورٹ نہ عدالت میں پیش کی گئی اور نہ ہی درخواست گزار کو فراہم کی گئی۔طارق منصور ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ یونیسف سمیت عالمی ادارے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، حکومت سندھ کے ان اسپتالوں میں تقریبا 10 لاکھ مزدور اور ان کے 80 لاکھ اہل خانہ علاج کراتے ہیں، لیکن متاثرہ بچوں کو مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں، جبکہ جاں بحق بچوں کی اموات کی ایف آئی آر بھی درج نہیں کی جا رہی۔وکیل نے کہا کہ قانون کے مطابق صرف سیکرٹری صحت ہی اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرا سکتے ہیں۔انہوں نے عدالت سے فوری مداخلت کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مزید بچوں کی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔

اس موقع پر جسٹس عدنان کریم نے ریمارکس دیئے کہ “مرنا سب کو ہے، لیکن عدالت قانون اور طریقہ کار کے مطابق ہی کارروائی کرے گی۔ جسٹس عدنان اقبال نے کہا، “عدالت کو اپنا کام کرنے دیں، اگر تقریر کرنی ہے تو باہر جا کر کریں۔”عدالت نے ریمارکس دیے کہ فریقین کے جواب موصول ہونے کے بعد ہی کیس کے حقائق کا جائزہ لے کر مناسب فیصلہ کیا جائے گا اور یقین دلایا کہ تمام معاملات عدالت کے سامنے آئیں گے اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے گا۔عدالت نے حکومت سندھ سے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کیے اور کیس کی مزید سماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…