پیر‬‮ ، 22 جون‬‮ 2026 

فورنگ میں ایک رات

datetime 23  جون‬‮  2026
ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون سے کبھی باہر نہیں گئے تھے‘ ان کی پوری زندگی وانگ (Wang) میں گزر گئی‘ وہ چاول اور توفو بنا کر بیچتے تھے‘یہ ان کا واحد ذریعہ آمدن تھا‘ ان کا آبشار کے ساتھ چھوٹا سا گھر تھا‘ وہ ان کی کل کائنات تھا لیکن پھر 1986ء میں وانگ گائوں میں ’’فورنگ‘‘ کے نام سے چینی زبان کی فلم بنی‘فلم کی سٹوری ناول گوہوا ( Gu-Hua) پر مبنی تھی‘ یہ دو میاں بیوی کی کہانی تھی جو چین کے انتہائی دور دراز گائوں میں رہتے تھے‘ چاول اور توفو کا سٹال لگاتے تھے اور مزے سے زندگی گزار رہے تھے لیکن پھر چین میں ’’ثقافتی انقلاب‘‘ آیا اور ان کا مشکل وقت شروع ہو گیا‘ مقامی لوگ جوڑے سے حسد کرتے تھے‘ انہوں نے ان کی شکایت کر دی‘ پولیس آئی‘ ان کا کاروبار بند کیا اور انہیں ایک دوسرے سے الگ کر دیا‘ وہ باقی زندگی ایک دوسرے کو ڈھونڈتے رہے‘ یہ ایک ٹریجک فلم تھی‘یہ وانگ میں کیوں فلمائی گئی !ا س کی وجہ فلم کا پروڈیوسرتھا‘ پروڈیوسر ’’زی جن‘‘ کسی زمانے میں وانگ گائوں سے گزرا تھا‘ اسے گائوں فلم کے پلاٹ کے مطابق لگا لہٰذا اس نے فلم وانگ میں فلما لی‘ فلم نہ صرف کام یاب ہو گئی بلکہ اس نے درجنوں نیشنل اور انٹرنیشنل ایوارڈ بھی لے لیے اور اس کے ساتھ ہی وانگ گائوں کا مقدر بھی بدل گیا‘ یہ چین اور پھر بین الاقوامی سطح پر مشہور ہو گیا‘ مقامی لوگوں نے فلم کی مقبولیت دیکھتے ہوئے گائوں کا نام وانگ سے فورنگ کر دیاجس کے بعد یہ چین کی بڑی سیاحتی منزل بنتا چلا گیااور مقامی لوگ امیر ہوتے چلے گئے‘ ان امیر لوگوں میں ہماری لینڈ لیڈی بھی شامل تھی‘ اس نے اپنے چھوٹے سے مکان کو توڑ کر چار منزلہ ہوٹل بنا لیا‘ نچلی دو منزلوں پر مساج پارلر ہے جب کہ اوپری دو منزلوں پر چار چار کمرے ہیں‘ کل آٹھ کمرے ہیں‘ ہوٹل کی بیک سائیڈ آبشار کی طرف کھلتی ہے جب کہ سامنے بازار ہے۔ میں اور ڈاکٹر عثمان سعید شام کے وقت فورنگ پہنچے‘ بارش ہو رہی تھی لیکن اس کے باوجود گائوں میں رش تھا‘ پوری دنیا سے سیاح آئے ہوئے تھے‘ ہم کہاں سے فورنگ پہنچے اور کیوں پہنچے‘ یہ بھی ایک دل چسپ داستان ہے‘ ڈاکٹر عثمان سعید فیصل آباد سے تعلق رکھتے ہیں‘ پیدائشی طور پر جلد کی بیماری (Xeroderma Pigmentosum) کے مریض ہیں‘
یہ خوف ناک بیماری ہے‘ دنیا میں اس کا کوئی علاج نہیں‘ ڈاکٹر عثمان بہادر انسان ہیں‘ یہ نہ صرف اس کا مقابلہ کر رہے ہیں بلکہ دنیا بھر میں اس بیماری کی آگاہی بھی دے رہے ہیں اور مریضوں کی مدد بھی کر رہے ہیں‘ یہ 2000ء میں چین آئے‘ طبی تعلیم حاصل کی‘ کاشغر کی مسلمان خاتون سے شادی کی اور گانزو میں کاروبار شروع کر دیا‘ یہ دو برس سے میرے ساتھ رابطے میں تھے اور یوں میں ان کی دعوت پر فورنگ چلا گیا‘ اب سوال یہ ہے فورنگ ہے کہاں؟ چین کے خونان صوبے کا شہر چانگ چاچے (Zhang Jiajie) بڑا سیاحتی مقام ہے‘ اس شہر میں پانچ بڑے سیاحتی مقامات ہیں‘ فورنگ ٹائون ‘ایواٹارکی پہاڑیاں‘ دنیا کا غاروں کا سب سے بڑا سلسلہ‘ دنیا کا بلند ترین اور طویل ترین گلاس برج اور وہ مقام جہاں پہاڑ کے درمیان وسیع سوراخ ہے اور وہاں سے آسمان دکھائی دیتا ہے (میں تمام مقامات کی تفصیل آئندہ کالموں میں تحریر کروں گا) گویا اس شہر میں ہر قسم کی سیاحت موجود ہے لہٰذا ہر سال کروڑوں سیاح یہاں آتے ہیں‘ یہ علاقہ چین نے دل چسپ سلوگن کے ذریعے ڈویلپ کیا اور وہ سلوگن ہے ’’غریب کا خاتمہ سیاحت کے ذریعے‘‘ حکومت نے غریب علاقوں کے غریب لوگوں کو امداد دینے کی بجائے ’’بے نظیر انکم سپورٹ‘‘ جیسے فنڈ سے ملک کے مختلف مقامات پر سیاحتی سرگرمیاں شروع کر دیں‘ وسیع انفراسٹرکچر بچھایا‘ ائیرپورٹ‘ ریلوے اور سڑکیں بنائیں اورباقاعدہ سیاحتی مقامات ڈویلپ کر کے وہاں سرگرمیاں شروع کر دیں‘یہ دل چسپ ماڈل ہے‘ اس کے ذریعے سیاحتی مقامات کی فیسیں گورنمنٹ کے اکائونٹ میں چلی جاتی ہیں اور یہ اس سے مزید سیاحتی علاقے ڈویلپ کرتی ہے جب کہ باقی تمام سرگرمیاں مقامی لوگوں کے حوالے کر دی جاتی ہیں‘ ٹیکسی سے لے کر گائیڈ تک تمام سروسز صرف مقامی لوگ فراہم کرتے ہیں‘ دوسرے علاقوں کے لوگ ان علاقوں میں کام نہیں کر سکتے یوں مقامی لوگوں کو روزگار ملتا ہے اور یہ غربت سے باہر آ جاتے ہیں‘ چانگ چاچے اس کی شان دار مثال ہے‘ اس علاقے کے 15لاکھ لوگوں کا مقدر بدل چکا ہے‘ یہ دس برس میں امیر ہو چکے ہیں۔ میں نے بیجنگ سے چانگ چاچے کی فلائیٹ لی اور اڑھائی گھنٹے میں وہاں پہنچ گیا‘ ڈاکٹر عثمان سعید گانزو سے ایک رات قبل وہاں آ چکے تھے‘ ہم نے گاڑی کرائے پر لی اور سفر شروع کر دیا‘ ہماری پہلی منزل ’’فورنگ ٹائون‘‘ تھا‘ یہ ٹائون چانگ چاچے سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘ پورا راستہ خوب صورت اور پہاڑی ہے‘ چاروں طرف بلند اور سز پہاڑ ہیں‘ کسی جگہ خشکی یا ویرانی دکھائی نہیں دیتی‘ آپ اسے سوات ویلی سمجھ لیں‘ بارش ہو رہی تھی‘ وادی اس میں مزید نکھر گئی تھی‘ ہم شام سے قبل فورنگ پہنچ گئے‘ ٹائون کے دو حصے ہیں‘ ماڈرن اور قدیم ‘ ماڈرن علاقہ قدیم علاقے کی چاروں سائیڈز پر ہے‘ اس میں ہوٹلز‘ ریستوران اور شاپنگ ایریاز ہیں جب کہ قدیم علاقہ درمیان میں ہے اور یہ پہاڑی ہے‘ یہ دور سے ایک ایسا پیالہ محسوس ہوتا ہے جس کے کناروں پر سبز پہاڑیاں اور پیندے میں اترائیوں پر قدیم گائوں ہے۔ اس کی ایک سائیڈ پر دریا ہے جس پر دائیں بائیں سے آبشاریں اور ندیاں گر رہی ہیں‘ گائوں کے قدیم علاقے میں داخلے پر ٹکٹ ہے‘ آپ ٹکٹ کے بغیر وہاں داخل نہیں ہو سکتے‘ ٹکٹ چار دن کے لیے جاری ہوتا ہے اور یہ آن لائن اور کیوآر کوڈ کی شکل میں ہوتا ہے‘ چین سیکورٹی اور سہولت میں دنیا کا جدید ترین ملک ہے‘ پورے ملک میں کیمرے لگے ہیں‘ آپ کسی بھی کونے میں ہوں آپ سسٹم کی آنکھ سے دور نہیں جا سکتے‘ آپ جس بھی سڑک یا گلی میں نکلیں گے کیمرہ آپ کو دیکھے گا اور سیکنڈز میں آپ کی شناخت کر لے گا اور اگر اسے آپ کی شناخت نہ ملے تو منٹوں میں پولیس آ جائے گی‘ ہماری لینڈ لینڈی نے ہمیں پارکنگ سے لیا اور شہر کے قدیم حصے کے گیٹ پر لے آئی‘ اس نے دیوار کے ساتھ کھڑا کر کے ہماری تصویر لی اور ہمارا سارا ڈیٹا نکل آیا‘ اس نے مقامی اور وفاقی گورنمنٹ کو مطلع کر دیا یہ دونوں ایک رات کے لیے میرے پاس قیام کر رہے ہیں‘ ان کا کمرہ نمبر یہ ہے اور یہ کہاں سے آئے ہیں‘ اس نے اس کے بعد داخلے کا کیو آر کوڈ بنایا اور ڈاکٹر عثمان کے اکائونٹ سے فیس کٹ گئی‘ پورے ملک میں نوٹ نہ ہونے کے برابر ہیں‘ ڈیڑھ ارب لوگ ایک ین سے ملین ین تک فون سے پے منٹ کرتے ہیں‘ ہم نے موبائل فون گیٹ کے کیمرے کے ساتھ لگایا اور گیٹ کھل گیا اور ہم ٹائون میں داخل ہو گئے‘ سیاحوں کی شکل اور پاسپورٹ ان کا ٹکٹ ہوتا ہے‘ آپ کسی بھی سیاحتی مقام پر چلے جائیں کیمرے کے سامنے کھڑے ہوں یا پاسپورٹ سکین کریں آپ نے اگر فیس ادا کی ہوگی تو گیٹ فوراً کھل جائیں گے‘ ہم بہرحال فورنگ ٹائون میں داخل ہو گئے‘ ہماری لینڈ لیڈی ساتھ تھی‘ اس کا ہوٹل گلی کے شروع میں تھا‘ کمرے ویلی کی طرف کھل رہے تھے جب کہ عمارت کے پائوں میں آبشار بہہ رہی تھی (تصویریں اور ویڈیوز کالم کے آخر میں ملاحظہ کریں)ہمیں کمرے نے بے اختیار واہ سبحان اللہ کہنے پر مجبور کر دیا اور ہم بڑی دیر تک ٹیرس پر مبہوت کھڑے رہ گئے‘ ہم اس کے بعد ٹائون میں اتر گئے‘ فورنگ کی گلیاں دو ہزار سال پرانی اور پتھریلی ہیں‘ یہ آنتوں کی طرح اندر ہی اندر پھیلی ہوئی ہیں‘ اونچی نیچی ہیں‘ مکان پرانے اور لکڑی کے ہیں‘ نیچے دکانیں اور اوپر رہائشیں ہیں‘ پورے شہر میں ریستوران‘ کافی شاپس‘ بارز اور سووینئر شاپس ہیں‘ ان سب کے مالک مقامی لوگ ہیں‘ اُبلے ہوئے چاول اور توفو مقامی ڈش ہے‘ پورے ٹائون میں مختلف قسم کے توفو ملتے ہیں‘ توفو مختلف سبزیوں اور سویا بین سے بنائے جاتے ہیں‘ یہ برفی کی ٹکڑیوں جتنے سپنچ نما ہوتے ہیں اور چاولوں کے ساتھ کھائے جاتے ہیں‘ گائوں میں سانپ کی شراب بنائی جاتی ہے‘ یہ لوگ شراب کے مرتبان میں سانپ ڈال دیتے ہیں‘ یہ دس بیس سال میں شراب میں تحلیل ہو جاتا ہے یا پھر اس کا ذائقہ شراب میں مل جاتا ہے‘لوگ اسے بڑی عقیدت کے ساتھ پیتے ہیں‘ راستے میں دو تھیٹر بھی تھے جن میں مقامی اداکار گائوں کی تاریخ بتا رہے تھے‘ جگہ جگہ ویو پوائنٹس ہیں‘ اوپر سے دریا دکھائی دیتا ہے جس میں موٹر بوٹس چلتی ہیں‘ بارش کی وجہ سے یہ سرگرمی بند تھی‘ گائوں کے درمیان میں آب شاریں گرتی ہیں جن کی آواز پورے گائوں میں گونجتی رہتی ہے‘ آب شاروں کے پیچھے سے بھی راستہ گزرتا ہے‘ ہم جب وہاں پہنچے تو ہم پر پھوار بھی پڑی اورہمیں سامنے سے پانی کی دیوار بھی گرتی ہوئی دکھائی دی‘ تصویریں بنانے کے لیے درجنوں سپاٹس تھے‘ ہم راستے میں ’’ساس‘‘ بنانے والی دکان پر رک گئے‘ مالک نے بتایا اس کا خاندان صدیوں سے مرچ اور مصالحوں کی ’’ساس‘‘ بنا رہا ہے‘ ہمارے سامنے ساس کے درجن بھر مرتبان پڑے تھے‘ وہ یہ خود تیار کرتا تھا اور اس کے بقول یہ آرگینک تھیں‘فری سیمپل گائوں کی روایت ہے‘ آپ اگر بھوکے ہیں تو مختلف دکانوں کا دورہ کر یں اور ان کے کھانے ٹیسٹ کر کے اپنا پیٹ بھر لیں‘ ہینڈی کرافٹس کی دکانوں پر مقامی ہنرمندوں کے ہنر کے نمونے تھے‘یہ بھی خوب صورت تھے‘ ہم دبلی پتلی گلیوں سے ہوتے ہوئے آخر میں بادشاہ کے محل میں پہنچ گئے‘ وہ سادا سا محل تھا جس کے صحن میں عام دنوں میں لائیٹ اینڈ سائونڈ شو ہوتا تھا‘ بارش کی وجہ سے اس دن شو نہیں تھا‘ ہمارے وہاں کھڑے کھڑے شام ہو گئی جس کے بعد لائیٹس آن ہو گئیں یوں پورے ٹائون کا کریکٹر تبدیل ہو گیا‘ آب شاروں میں مختلف رنگوں کی روشنیاں جھلملانے لگیں‘ محل کے بعد دریا پر چینی سٹائل کا برآمدہ تھا ‘اس کی دونوں سائیڈز پر ویو تھا‘ سیاح وہاں کھڑے ہو کر ویڈیوز اور تصویریں بنا رہے تھے‘ برآمدے سے دریا اور آب شاریں دکھائی دے رہی تھیں اور پانی کی آوازیں گونج رہی تھیں‘ بارش‘ رات‘ لائیٹس اور آب شاروں کی آوازیں یہ سب مل کر خواب جیسی محسوس ہو رہی تھیں‘ میں دیر تک برآمدے میں کھڑا رہا‘ وہ منظر اور وہ ٹائون دونوں زندگی کا حاصل تھے‘ میں اگر وہاں نہ آتا تو شاید میری سیاحتی زندگی کبھی مکمل نہ ہوتی۔

موضوعات:



کالم



فورنگ میں ایک رات


ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…