اسلام آباد (نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے
وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ لاجز میں ویگو ڈالوں کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے واضح قواعد و ضوابط بنائے جانے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کے بعد سرکاری گاڑیوں پر قومی پرچم آویزاں نہیں ہونا چاہیے اور اگر وزیر خود گاڑی میں موجود نہ ہو تو جھنڈا لگانے کی اجازت بھی نہیں ہونی چاہیے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی ایوان سے خطاب کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ پارلیمنٹ کے وقار اور تقدس کا ہر صورت تحفظ کیا جانا چاہیے اور مسلح افواج یا اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف غیر مناسب گفتگو کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے تجویز دی کہ تمام پارلیمانی جماعتوں کے اراکین مل بیٹھ کر ایوان کے لیے ایک جامع ضابطہ اخلاق مرتب کریں تاکہ پارلیمانی روایات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
خواجہ آصف نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ماضی میں انہیں اور نواز شریف کو توہین عدالت کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بعض دیگر ارکان اسمبلی کو بھی اسی نوعیت کے معاملات میں طلب کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان میں اداروں پر تنقید کی روایت موجود رہی ہے اور وہ خود بھی مختلف مواقع پر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں، تاہم حاضر سروس ججوں کو تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ لاجز کے ماحول کو بھی منظم بنانے کی ضرورت ہے اور ویگو ڈالوں کی آمدورفت کو محدود کرنے کے لیے باقاعدہ پالیسی مرتب کی جانی چاہیے۔ ان کے بقول سڑکوں پر بھی ان گاڑیوں کے استعمال پر نظرثانی ہونی چاہیے۔
خواجہ آصف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اقتدار کے دنوں میں سیاست دانوں کے آگے پولیس چلتی ہے اور اقتدار سے باہر ہونے کے بعد وہی پولیس ان کے پیچھے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سارے نظام کو متوازن اور منظم بنانے کی ضرورت ہے۔



















































