اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے عدالتی عمل کا غلط استعمال کرنیوالے سابق شوہر پر 5لاکھ روپے جرمانہ عائد کر تے ہوئے
ریمارکس دیئے ہیں کہ خلع کے بعد خاتون کو مقدمہ بازی میں پھنسانا اس کی عزِ نفس اور خودمختاری پر شدید حملہ ہے۔9صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سابق شوہر نے خاتون پر بدکردار ہونے کا الزام لگایا جس کا مقصد خاتون کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا، قانونی طور پر خلع لینے اور عدت مکمل کرنے کے بعد خاتون کو دوسری شادی کا مکمل حق حاصل ہے۔ عدالت نے کہا کہ خلع کے بعد دوسری شادی کرنے کے لیے خاتون کو سابق شوہر سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں، جھوٹے فوجداری مقدمات اور کردار کشی کا مقصد صرف دبائو ڈالنا ہوتا ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ خواتین کے خلاف مقدمہ بازی کو ہراساں یا تذلیل کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جاسکتا، ملک بھر کی عدالتیں نکاح کے تنازعات میں قانون کے غلط استعمال پر ہوشیار رہیں، بدنیتی پر مبنی مقدمہ بازی روکنا عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ سائلین کی عزتِ نفس کا تحفظ کرنا عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
شوہر 30دن کے اندر جرمانے کی رقم اپنی سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا پابند ہوگا، جرمانہ عدم ادائیگی کی صورت میں فیملی کورٹ کے ذریعے وصول کیا جائے۔



















































