پیر‬‮ ، 15 جون‬‮ 2026 

وزیر خزانہ نے سپر ٹیکس کے مکمل خاتمے کا عندیہ دیدیا

datetime 15  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد(این این آئی)وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سپر ٹیکس کے مکمل خاتمے کا عندیہ دیتے ہوئے کہاہے کہ ہر سال سپر ٹیکس کے خاتمے کی مزید کوشش کرتے رہیں گے،

پاکستان جیسا منافع دنیا کے کسی ملک کی اسٹاک مارکیٹ میں نہیں، آئندہ مالی سال میں مزید معاشی بہتری کی توقعات ہیں، پاکستان اور چین کے درمیان بی ٹو بی تعلقات میں روز بروز بہتری آ رہی ہے،امن معاہدہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے کی جانے والی سفارتی کوششوں کی کامیابی کا مظہر ہے۔ پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہماری سمت بڑی واضح ہے سپر ٹیکس کو ختم کرنا ہے، ہم ہر سال سپر ٹیکس کے خاتمے کی مزید کوشش کرتے رہیں گے۔دوران اجلاس رکن کمیٹی سینیٹر عبدالقادر نے تجویز پیش کی کہ سپر ٹیکس میں استثنیٰ کی حد 50 کروڑ کی بجائے ایک ارب کردیں۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ حد ایک ارب کرنے کیلئے پھر 250 ارب کے نئے ٹیکس اقدامات کرنے ہونگے۔

قبل ازیںپاکستان سٹاک ایکسچینج میں سروس لانگ مارچ ٹائرز لمیٹڈ کی لسٹنگ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اعتماد اور بھروسے کے ساتھ ساتھ مصالحتی عمل میں مسلسل، مخلصانہ اور انتھک کاوشیں کیں اور اس عمل کو کامیاب انجام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ مذاکرات کے فروغ اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی حمایت میں پاکستان کے کردار نے خطے میں امن کے قیام کیلئے ایک تعمیری اور ذمہ دار شراکت دار کے طور پر اس کی حیثیت کو مزید مضبوط کیا ہے، یہ پیش رفت سفارت کاری، مثبت روابط اور تنازعات کے پرامن حل کیلئے پاکستان کے عزم کی عکاس ہے۔ وزیرِ اعظم کی جانب سے رواں ہفتے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو)پر دستخط کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ اس پیش رفت کے پاکستان کی معیشت اور وسیع تر علاقائی استحکام پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران پاکستان نے اس تنازع کے فوری معاشی اثرات کا موثر انداز میں مقابلہ کیا اور اس بات پر اعتماد ظاہر کیا کہ یہ معاہدہ ممکنہ ثانوی اور ثالثی معاشی اثرات کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش میں بھی کمی لائے گا۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں کچھ وقت لگے گا تاہم معاہدے نے معاشی سرگرمیوں کے امکانات کو بہتر بنایا ہے اور آئندہ مالی سال کے لیے حوصلہ افزا معاشی مواقع پیدا کیے ہیں۔

وزیرخزانہ نے پاکستان سٹاک ایکسچینج کی انتظامیہ اور بورڈ کو شاندار کارکردگی پر مبارک باد دی اور سرمایہ کاروں، بالخصوص نوجوان سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی شرکت کو سراہا جو بڑی تعداد میں مارکیٹ کا رخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سروس لانگ مارچ ٹائرز لمیٹڈ کی لسٹنگ پاکستان کی مالیاتی منڈیوں کیلئے ایک اور اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ مالی سال کے دوران ملک میں 11 ابتدائی آئی پی اوز سامنے آئیں، جو تقریبا ًدو دہائیوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ کسی بھی معیشت پر اعتماد کا سب سے مضبوط اظہار اس وقت سامنے آتا ہے جب سرمایہ کار اپنا سرمایہ لگانے کا فیصلہ کرتے ہیں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری ملک کی معاشی سمت پر اعتماد میں اضافے کی عکاس ہے۔ سروس لانگ مارچ ٹائرز لمیٹڈ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ وہ اس منصوبے کے ابتدائی مراحل سے اس کے ساتھ وابستہ رہے ہیں اور اسے صنعتی تعاون اور برآمدات پر مبنی سرمایہ کاری کی ایک کامیاب مثال قرار دیا۔ وزیرخزانہ نے کوویڈ کے دوران اس منصوبے کے موثر نفاذ کو سراہتے ہوئے چینی مہارت کے کردار اور پاکستان میں سرمایہ کاروں کے مسلسل اعتماد کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی اور طویل المدتی خوشحالی کے اہداف حاصل کرنے کیلئے پاکستان سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی،کیپٹل مارکیٹس کے استحکام اور بین الاقوامی اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ دریں اثناء بلوم برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہاکہ پاکستانی معیشت بحالی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، معاشی نمو میں تیزی اور مہنگائی میں کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مالیاتی شعبے کے حوالے سے پاکستان کی صورتحال حوصلہ افزا ہے۔ مالیاتی خسارہ تاریخ کی کم ترین سطح پر آ چکا ہے اور ہم بنیادی سرپلس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ زرمبادلہ کے ذخائر کے اعتبار سے پاکستان کے پاس کم از کم تین ماہ کی درآمدات کے مساوی ذخائر موجود ہیں، بالآخر ہمیں برآمدات پر مبنی معاشی نمو کی جانب بڑھنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ہم نے واضح طور پر سمت کا تعین کر دیا ہے کہ اب ہم معاشی استحکام کے مرحلے سے نکل کر پائیدار اور وسعت پذیر اقتصادی ترقی کی طرف کس طرح پیش قدمی کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…