اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان نژاد امریکی ارب پتی شاہد خان نے تقریباً 60 برس قبل محض 16 سال کی عمر میں صرف 50 ڈالر لے کر امریکہ ہجرت کی،
جہاں انہوں نے ابتدائی دنوں میں یونیورسٹی آف الینوائے میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی بقا کے لیے برتن دھونے کا کام بھی کیا۔
انہوں نے گاڑیوں کے پرزے بنانے والی کمپنی ‘فلیکس-این-گیٹ’ (Flex-N-Gate) میں ملازمت اختیار کی اور وہاں ایک ایسی انقلابی تکنیک وضع کی جس کے ذریعے گاڑیوں کے لیے ایک ہی ٹکڑے پر مشتمل مضبوط بمپرز (One-piece Bumpers) تیار کیے جانے لگے، جس نے بعد میں کارخانے کی پیداواری لاگت کو بے حد کم کر دیا۔
اپنی اسی منفرد ایجاد اور کاروباری بصیرت کی بدولت انہوں نے آگے چل کر اسی کمپنی کو خرید لیا جو آج دنیا کی صفِ اول کی آٹو پارٹس سپلائر بن چکی ہے،
اور امریکی تجارتی جریدے Forbes کے مطابق آج ان کی مجموعی نیٹ ورتھ (دولت) تقریباً 13.4 ارب ڈالر (پاکستانی روپوں میں 37 کھرب روپے سے زائد) ہو چکی ہے، جس کی بدولت وہ امیر ترین پاکستانی نژاد شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ‘جیکسن ول جیگوارز’ (NFL) اور ‘فلہم فٹ بال کلب’ جیسی مشہور کھیلوں کی ٹیموں کے مالک بن کر دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔



















































