اتوار‬‮ ، 14 جون‬‮ 2026 

چکوال،آسٹریلوی خاندان پر سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق 9 سالہ بجی کے مقدمے میں اہم پیشرفت

datetime 14  جون‬‮  2026 |

چکوال (این این آئی)چکوال میں جاں بحق ہونے والی 9 سالہ ہانیہ عدیل کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،

گرفتار سی سی ڈی اہلکار کے خلاف درج مقدمے میں دفعہ 302 (قتلِ عمد)شامل کر دی گئی ہے، اس سے قبل مقدمہ دفعہ 322 (قتلِ خطا)کے تحت درج کیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق اہلکار نے گاڑی کو مبینہ طور پر ڈاکوں کی گاڑی سمجھ کر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں ہانیہ عدیل جاں بحق ،ان کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے تھے۔ فائرنگ میں استعمال ہونے والی رائفل بھی ملزم کے قبضے سے برآمد کر لی گئی ہے۔بتایا گیا کہ مقدمے کی تفتیش سٹی پولیس سے واپس لے کر سی سی ڈی کے سپرد کر دی گئی ہے، گرفتار اہلکار کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز چکوال میں 2 ملزمان کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی)چکوال کے ساتھ مبینہ مقابلے میں مارے گئے جب کہ سی سی ڈی کے ایک اہلکار کو نابالغ لڑکی کے قتل اور اس کے بھائی اور والد کو زخمی کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ 39 سالہ عدیل احمد، ان کی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ خان، 9 سالہ بیٹی ہانیہ احمد اور 10 سالہ بیٹا عفان احمد ڈکیتی کے دوران اس وقت حملے کی زد میں آئے جب سی سی ڈی پولیس والوں نے ڈاکو سمجھ کر ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ہانیہ موقع پر جاں بحق جبکہ عدیل اور عفان شدید زخمی ہو گئے، ڈاکٹر سدرہ خان محفوظ رہیں۔

اس دوران دونوں ڈاکو اپنی موٹر سائیکل چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گئے، ابتدائی طور پر ایف آئی آر میں سی سی ڈی اہلکار کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا تاہم بعد میں ایف آئی آر میں ترمیم کرکے دفعہ 302 کا اضافہ کیا گیا جس کے تحت اہلکار کی گرفتاری عمل میں آئی۔میڈیا رپورٹ کیمطابق جمعرات کی رات دونوں ڈاکو سی سی ڈی کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے، ان کی شناخت شاہدرہ کے رہائشی محمد عباس اور فیروز والا کے رہائشی محمد فیاض کے نام سے ہوئی۔سی سی ڈی کے سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ دونوں ڈاکو ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث تھے، ہلاک ڈاکو آسٹریلیا کے شہری خاندان کو لوٹتے ہوئے سی سی ڈی کے اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملوث تھے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ڈاکو پنجاب کے مختلف علاقوں میں ایک درجن سے زائد وارداتوں میں ملوث تھے اور ماضی میں بھی ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ محمد عباس 2021 میں چکوال میں ڈکیتی کی دو وارداتوں میں بھی ملوث تھا۔انہوں نے 3 جون کو گوجرانوالہ میں سی سی ڈی پولیس اہلکار کو گولی ماری، 6 جون کو شیخوپورہ میں ایک شخص سے موٹر سائیکل چھین لی اور چکوال آتے ہوئے کھیوڑہ میں دکاندار کو لوٹا۔اہلکار نے بتایا کہ چکوال پہنچنے کے بعد ڈاکو چکوال-چوہ ساہ روڈ پر سوتوال گائوں کے قریب مسجد میں ٹھہرے۔اہلکار نے کہا کہ عباس اپنے ساتھی فیاض کی بیوی بن کر واردات کرتا تھا، دونوں ڈاکو بطور میاں بیوی کے بھیس میں دن کے وقت اپنے اہداف کی نشاندہی کرتے اور پھر رات کو واردات کرتے تھے۔

یاد رہے کہ بدھ کی رات چکوال میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی)کے اہلکاروں نے ڈاکو سمجھ کر گاڑی پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ایک 9 سالہ بچی جاں بحق اور اس کا باپ اور بھائی زخمی ہوگئے۔پولیس ذرائع اور خاندان کے ارکان نے بتایا تھا کہ گاں ڈھڈیال کا رہنے والا 39 سالہ آسٹریلوی شہری عدیل احمد حال ہی میں اپنی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ خان، بیٹے عفان احمد اور بیٹی ہانیہ احمد کے ساتھ پاکستان آیا۔پاکستان پہنچنے کے بعد یہ جوڑا حج پر گیا اور بدھ کی صبح سعودی عرب سے واپس آیا، عدیل کے سسر نے اپنی دونوں بیٹیوں کے اہل خانہ کے لیے عشائیہ کا اہتمام کیا۔عدیل رات کا کھانا کھانے کے بعد 11 بج کر 40 منٹ پر اپنے سسر کے گھرسے نکلا، اس کی بیوی اپنے ماموں سے ملنا چاہتی تھی، جن کا گھر سی سی ڈی اسٹیشن سے ملحق ہے۔علی اعجاز نے بتایا کہ جب انہوں نے اپنی کرائے کی کار میرے گھر کے سامنے روکی تو دو ڈاکو موٹر سائیکل پر آئے، ایک ڈاکو جس کے پاس پستول تھا گاڑی کے پاس آیا اور عدیل اور سدرہ سے کہا کہ وہ اپنے زیورات اور نقدی حوالے کر دیں۔انہوں نے بتایا کہ اس کی بھانجی نے ڈاکو کو اس کے زیورات دیے جن کی مالیت 500,000 روپے تھی، جیسے ہی ڈاکو زیورات لے گیا، اسے سی سی ڈی کے ایک اہلکار نے دیکھا جو باہر کھانا کھا کر اسٹیشن واپس آ رہا تھا۔اس کے بعد پولیس اہلکار اسٹیشن پر پہنچا اور ایک کانسٹیبل سے ایس ایم جی بندوق چھینی اور ڈاکوں پر فائرنگ کر دی جس پر انہوں نے بھی جوابی فائرنگ کی۔

دونوں ڈاکو اپنی موٹر سائیکل موقع پر چھوڑ کر فرار ہو گئے، فائرنگ کے بعد عدیل نے بھی گاڑی چلادی۔پولیس اہلکار نے بتایا کہ جیسے ہی پولیس والوں نے گاڑی کو فورا بھگاتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے گاڑی کو ڈاکوں کی ملکیت سمجھا اور کار پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔سی سی ڈی اہلکاروں نے موٹرسائیکلوں پر کار کا پیچھا بھی کیا لیکن وہ اسے نہ پکڑ سکے کیونکہ عدیل نے گاڑی تیز رفتاری سے چلائی اور اپنے سسر کے گیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا جہاں اس کا گاڑی پر کنٹرول ختم ہو گیا اور کار گیٹ سے ٹکرا گئی۔گاڑی ٹکرانے کے باعث وہ بھی بری طرح زخمی ہوا، زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی بیٹی ہانیہ کو مردہ قرار دیا گیا جبکہ عدیل اور اس کے بیٹے عفان کو بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی ریفر کر دیا گیا جہاں دونوں کا آپریشن کیا گیا۔سی سی ڈی کے ریجنل آفیسر راولپنڈی حسن جہانگیر وٹو اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال کاشف ذوالفقار نے لواحقین سے ملاقات کی اور قصورواروں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ڈی پی او نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے جو جلد ہی اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…