اللہ سے خوش قسمتی مانگو
’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی دعا بھی کیا کرو‘‘ نوجوان نے حیرت سے میری طرف دیکھا‘ میں نے عرض کیا ’’بیٹا خلیفہ ہارون الرشید کہا کرتا تھا مقدر ہمیشہ علم سے بڑا ہوتا ہے کیوںکہ میں نے بڑے بڑے عالموں کو خوش قسمت جاہلوں کے پاس ملازم دیکھا ہے چناںچہ اللہ سے جب بھی مانگو مقدر مانگو‘ اللہ خوش قسمتی دے گا تو عقل اور علم خودبخود پاس آ کر بیٹھ جائیں گے اور گھر میں اگربدقسمتی کے ڈیرے ہوں گے تو عقل فساد بن جائے گی اور علم محرومی‘‘۔ نوجوان کے چہرے پر دکھ کے سائے پھیل گئے‘ وہ مجھے نالائق اور منافق شخص سمجھ رہا تھا۔ اس کا خیال تھا میں ہمیشہ علم اور عقل کی تلقین کرتا ہوں لیکن جب اسے مشورے کی ضرورت پڑی تو میں نے اسے میمن اور شیخ برادری کی طرح خوش قسمتی کا درس دینا شروع کر دیا اور یہ فکری تضاد ہے۔ میں اس کی کیفیت سمجھ رہا تھا۔ میں نے اس سے عرض کیا ’’میں تمہیں دنیا کے چند لوگوں کی کہانیاں سناتا ہوں‘ ان لوگوں کے پاس عقل بھی تھی‘ محنت بھی اور علم بھی لیکن یہ لوگ مقدر سے مار کھا گئے چناںچہ آج دنیا میں کوئی شخص ان کے نام سے بھی واقف نہیں جب کہ ان کی محنت‘ ان کے علم اور ان کی عقل سے فائدہ اٹھانے والوں نے دنیا میںدولت بھی کمائی‘ نام بھی اور شہرت بھی‘‘۔
میں نے نوجوان کی طرف دیکھنا شروع کر دیا‘ نوجوان نے بے چینی سے کروٹ بدلی اور دکھی آواز میں بولا ’’مثلا‘‘ میں نے عرض کیا ’’مثلاً تم بجارنی ہرجلف سن کو لے لو‘ اس شخص نے کرسٹوفر کولمبس سے پانچ سو چھ سال پہلے امریکا دریافت کر لیا تھا‘ یہ 986ء میں گرین لینڈکے لیے روانہ ہوا‘ راستے میں اس کا جہاز سمندری طوفان میں پھنس گیا‘ یہ روٹ سے ہٹا اورامریکا کے ساحل پر پہنچ گیا‘ طوفان ختم ہوا تو اس نے خود کو عجیب دنیا میں پایا‘ اس کے سامنے چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں اور گھنے جنگل تھے‘ یہ نئی دنیا دیکھ کرڈر گیا‘ اس کے ساتھیوں نے اس سے زمین پر اترنے کی درخواست کی لیکن بجارنی نہ مانا‘ اس نے جہاز موڑا اور واپس گرین لینڈ چلا گیا‘ اس نے واپسی پر اپنے دوست لیف ایریکسن کو اس عجیب وغریب زمین کے بارے میں بتایا‘ لیف ایریکسن کو تجسس ہوا‘ اس نے بجارنی کا بحری جہاز لیا‘ اس سے نقشے
حاصل کیے اور وہ بھی امریکا پہنچ گیا لیکن تم قسمت کا ہیر پھیر دیکھو دنیا آج ان دونوں کے نام تک سے واقف نہیں اور وہ کرسٹوفر کولمبس جو 1492ء میں انڈیا کا نیا راستہ تلاش کرتے ہوئے امریکا پہنچا‘ جو مرنے تک نئی دنیا کوانڈیا سمجھتا رہا دنیا آج اسے امریکا کا ’’فاتح‘‘ قرار دے رہی ہے۔ یہ کیا ہے؟ کیایہ مقدر کا کھیل نہیں؟‘‘ نوجوان نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ میں نے عرض کیا ’’تم اب والٹر ہنٹ کو دیکھو‘ اس نے دنیا کو 25چیزیں دیں‘ اس نے سلائی مشین بنائی‘ اس نے ری پیٹنگ رائفل بنائی‘ اس نے فونٹین پین ایجاد کیا تھا اور اس نے سیفٹی پن بنائی لیکن یہ ایجادات پوری زندگی اس کے لیے مذاق بنی رہیں‘
یہ ان سے ایک وقت کا کھانا نہیں کھا سکا۔ اس نے 1834ء میں سلائی مشین بنائی تو لوگوں نے یہ کہہ کر اس کی مشین مسترد کر دی ’’اس سے درزی بے روزگار ہو جائیں گے‘‘ وہ اس رائے سے دل برداشتہ ہوگیا اور اس نے سلائی مشین رجسٹر نہیں کرائی‘ اس نے فونٹین پین بنایا لوگوں نے اسے کھلونا قرار دے دیا‘ اس نے ری پیٹنگ رائفل بنائی‘ لوگوں نے اس کا بھی مذاق اڑایا اور آخر میں اس نے سیفٹی پن ایجاد کر لی‘ ہم سب والٹر نیٹ کی بنائی سیفٹی پن استعمال کرتے ہیں لیکن والٹر نیٹ کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا‘ وہ سیفٹی پن کی رجسٹریشن سو ڈالر میں بیچنے پر مجبور ہو گیا‘ خریدنے والوں نے اس سے اربوں روپے کمائے لیکن والٹر نیٹ 63سال کی عمر میں اپنی ورکشاپ کی میز پر خون تھوک کر مر گیا تھا‘ یہ کیا ہے؟ کیا یہ بدقسمتی نہیں‘‘ نوجوان نے ہاں میں سر ہلایا۔ میں نے اس سے عرض کیا ’’اور تم ٹیلی فون کی کہانی بھی سنو‘ یہ ٹیلی فون جرمنی کے ایک سکول ٹیچر فلپ رئیس نے 1860 میں ایجاد کیا تھا‘ وہ اس کے ذریعے گھر بیٹھ کر اپنے طالب علموں کو لیکچر دیتا تھا‘ اس آلے کو ٹیلی فون کا نام بھی فلپ رئیس ہی نے دیا تھا‘ وہ اس پر برسوں کام کرتا رہا جب ٹیلی فون خوب صورت شکل میں آ گیا تو اس نے جرمنی کے چوٹی کے سائنس دانوں کے پاس بھجوایا لیکن سب نے اسے کھلونا کہہ کر گودام میں پھینک دیا‘ اس وقت ایلیشا گرے نام کا ایک دوسرا سائنس دان بھی ٹیلی فون پر کام کر رہا تھا‘ وہ بھی کام یاب ہو گیا لیکن اسے یہ آلہ سائنسی لحاظ سے شان دار مگر بزنس کے پوائنٹ سے فضول دکھائی دیتا تھا چناںچہ اس نے ٹیلی فون بنا کر دوستوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیے۔ ٹیلی فون کے پہلے موجد فلپ رئیس کو ٹی بی ہوئی اور وہ 1874ء میں انتقال کر گیا۔ گراہم بیل ان دنوں ٹیلی گراف کو بہتر بنانے پر کام کر رہا تھا لیکن اس نے بھی اتفاقاً ٹیلی فون ایجاد کر لیا‘ وہ 1876ء میں اپنی یہ ایجاد لے کر رجسٹریشن آفس پہنچ گیا اور اسے ’’پیٹنٹ‘‘ کرا لیا۔ ٹیلی فون کا دوسرا موجد ایلیشا گرے بھی اسی دن رجسٹریشن آفس گیا لیکن یہ گراہم بیل سے دو گھنٹے لیٹ ہو گیا چناںچہ ٹیلی فون کی عزت اور دولت دونوں گراہم بیل کے حصے میں آ گئی ‘کیا یہ فلپ رئیس اور ایلیشا گرے کی بدقسمتی نہیں تھی؟‘‘ نوجوان نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
میں نے عرض کیا ’’تاریخ ایسی بے شمار داستانوں ‘ایسی ہزاروں لاکھوں کہانیوں سے بھری پڑی ہے‘ یہ لوگ عالم بھی تھے‘ عامل بھی ‘محنتی بھی‘ مخلص بھی ‘ جرات مند اور بہادر بھی اور ان لوگوں نے اپنے مقصد کے لیے جانیں بھی دی تھیں لیکن ان کے پاس مقدر نہیں تھا۔ یہ خوش قسمت نہیں تھے چناںچہ ان کی تیار فصلیں کھیتوں میں کھڑی رہ گئیں اورخوش قسمت لوگ راہ چلتے خوشی‘ کام یابی ‘ شہرت اورنصیب سمیٹ کر گھر لے گئے ‘ ان لوگوں کی نسلوں تک کا مقدر بدل گیا۔ میں علم کا حامی ہوں‘ میں محنت کی عظمت کا بھی داعی ہوں اور میں عقل کو قدرت کا بہت بڑا معجزہ بھی سمجھتا ہوں‘ یہ عقل ہے جو انسان کو جانوروں کی سطح سے بلند کرتی ہے‘ یہ محنت ہے جو لوہے کو سونے کی شکل دیتی ہے اور یہ علم ہے جو انسان کو خدا تک لے جاتا ہے لیکن اس کے باوجود ہم مقدر کے عنصر کو زندگی سے نہیں نکال سکتے۔ یہ مقدر ہے جو ایک ہی کان میں پڑے پتھروں میں سے کسی کو کوئلہ بنا دیتا ہے اور کسی کو ہیرا۔ جو ایک ہی غار کی دھات کو لوہے کی شکل دیتا ہے اور اسی غار میں بڑی دھات کو سونا بنا دیتاہے۔ لوہے اور سونے کے فرق اور کوئلے اور ہیرے کے ’’ڈیفرنس‘‘ کو مقدر کہا جاتا ہے چناںچہ اللہ تعالیٰ سے جب بھی مانگو مقدر مانگو کیوںکہ لوہا چاہے جتنا بھی مضبوط‘ چمک دار اور شان دار ہو جائے وہ لوہا ہی رہتا ہے اور سونا خواہ کتنا ہی میلا‘ پرانا اور گندا کیوں نہ ہو جائے یایہ نالی ہی میں کیوں نہ گر جائے یہ سونا ہی رہتا ہے۔۔! دنیا کا کوئی علم‘ دنیا بھر کی مشترکہ محنت اور ساری خلق خدا مل کر بھی لوہے کو سونے تک ترقی نہیں دے سکتی اوردنیا بھر کے حاسدین مل کر بھی سونے کو لوہے کے لیول تک نہیں گرا سکتے‘‘۔ نوجوان نے میری بات سے اتفاق کیا لیکن تھوڑی دیر سوچ کر پوچھا ’’انسان اگر بدقسمت ہو‘ اگر اس کی سیدھی ہمیشہ الٹی پڑتی ہو‘ اگر اس کا یکا ہمیشہ ستے سے مار کھا جاتا ہو اور اس کا بادشاہ اگر ہمیشہ پیادے سے پٹ جاتا ہو تو اس کو کیا کرنا چاہیے‘‘ میں نے قہقہہ لگایا‘ نوجوان کی بات واقعی قابل غور تھی۔ دنیا میں آخر بدقسمت لوگ بھی ہوتے ہیں‘ یہ بدقسمت لوگ کیسے زندگی گزاریں؟ یہ کیا کریں؟۔یہ دنیا کا مہنگا ترین سوال ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ یہ کوئی ناقابل حل معمہ ہے۔ آپ بدقسمتی کو خوش قسمتی میں کیسے تبدیل کر سکتے ہیں اس کا بھی ایک فارمولا ہے اوریہ فارمولا آسان بھی ہے اور سیدھا بھی لیکن میں یہ فارمولا آپ کو اگلے کالم میں بتائوں گا۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
ملک بھر میں عیدالاضحی پر گیس فراہمی کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
جسپریت بمراہ نے ٹی 20 کی تاریخ کا ناپسندیدہ اور منفرد ریکارڈ بنا لیا
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
کیا تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 15 جون سے ہوں گی؟ طلبا کے لئے نئی خبر آگئی
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ...
-
نجی ہسپتال سے 18 سالہ نرس کی لاش برآمد
-
پاکستان بھر سے اندرون اور بیرونِ ملک کی 83 پروازیں منسوخ، وجہ سامنے آگئی
-
بھارت میں رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ کردیاگیا
-
غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش، درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ
-
فریج کے بغیر قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کا زبردست طریقہ
-
امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ جنگ بندی معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
سندھ میں عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کا نیا نوٹیفکیشن جاری





















































