پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

datetime 7  اپریل‬‮  2026
جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں تھا ‘ ہم اگر یہ کہیں ایرانی پاکستانیوں کو پسند نہیں کرتے تھے تو یہ غلط نہیں ہو گا‘ اس کی دو بڑی وجوہات تھیں‘ پہلی وجہ زائرین ہیں‘ پاکستان سے ہر سال چھ سات لاکھ زائرین زیارتوں کے لیے ایران جاتے ہیں‘ بدقسمتی سے ان کی اکثریت ان پڑھ اور غریب ہوتی ہے اور یہ ان کی زندگی کا پہلا غیرملکی سفر ہوتا ہے چناں چہ یہ ایران میں جگہ جگہ ایسی حماقتیں کرتے ہیں جس سے ملک کا تاثر خراب ہوتا ہے‘ زائرین کو ایران لے جانے والے پاکستانی بھی اچھے نہیں ہیں‘ یہ پیسے بچانے کے لیے انہیں گندی اور پرانی بسوں میں لے کر جاتے ہیں‘ برے ہوٹلوں یا سرائوں میں ٹھہراتے ہیں اور بعض اوقات انہیں امام رضاؒ کے روضے کے سامنے بے آسرا چھوڑ کر غائب ہو جاتے ہیںجس کے بعد زائرین روضے یا سڑکوں پرسوتے ہیں‘ مانگ کرکھانا کھاتے ہیں اوربھیک مانگتے ہیں چناں چہ پاکستانی مشہد میں مسکین کہلاتے ہیں‘ایران میں یہ تاثر عام ہے آپ کو سڑک پر اگر کوئی مفلوک الحال یا گندا شخص نظر آئے تو وہ لازماً پاکستانی ہو گا‘ دوسرا کوئٹہ سے تفتان بارڈر تک سڑک ویران ہے اور اس کے دائیں بائیں کوئی ریسٹ ایریا نہیں‘ سرحد پر بھی کوئی ہال‘ ہوٹل یا ریستوران نہیں ہے‘ زائرین کھلے آسمان تلے پڑے رہتے ہیں اور یہ اسی بری حالت میں ایران میں داخل ہو جاتے ہیں جب کہ دوسری طرف باقاعدہ امیگریشن ہالز‘ ریسٹ ایریاز‘ ہوٹلز اور ریستوران ہیں‘ زاہدان ایک مکمل اور جدید شہر ہے وہاں سے ریل‘ بسیں اور فلائیٹس چلتی ہیں‘ یہ فرق بھی پاکستان کا امیج خراب کر رہا ہے اور آخری وجہ امریکی بلاک ہے‘ امریکا اور ایران میں 50 سال سے دشمنی ہے جب کہ ہم امریکا کے دوست ہیں‘ اس وجہ سے بھی ایرانی ہمیں پسند نہیں کرتے‘ ایران میں کیوں کہ ہمارے خوش حال‘ پڑھے لکھے اور مہذب لوگ نہیں جاتے لہٰذا ایرانی ہمیں غریب‘ ان پڑھ اور بدتہذیب سمجھتے ہیں لہٰذا ہمیں فوری طور پر زائرین پر توجہ دینی ہو گی‘ حکومت رضا فائونڈیشن کے ساتھ مل کر کوئٹہ سے زاہدان تک زائرین کی ٹرین چلا سکتی ہے‘ رضا فائونڈیشن ٹرین بنا اور چلا کر دینے کے لیے تیار بھی ہے‘ دوسرا ہم ایران کے ساتھ مل کر زائرین کے لیے جدید بس سروس چلا سکتے ہیں اور کوئٹہ تفتان روڈ پر ریسٹ ایریاز بھی بنا سکتے ہیں اور زائرین
کی ٹریننگ کا بندوبست بھی کر سکتے ہیںتاہم جون 2025ء میں جب اسرائیل اور امریکا نے ایران پرحملے کیے تو پاکستان نے کھل کر ایران کی حمایت اور مدد کی‘ اس سے ایران میں پاکستان کا تاثر بدل گیا‘ ایران کی پارلیمنٹ میں پہلی بار تشکر پاکستان کے نعرے لگے اور ایرانی میڈیا نے بھی پاکستان کی تعریف شروع کر دی‘ اس وجہ سے اب عوام بھی پاکستانیوں کی قدر کرتے ہیں۔ ہم بھی ایران کے بارے میں مغالطوں کا شکار ہیں‘ ہم اسے غیر ترقی یافتہ اور غریب ملک سمجھتے ہیں‘ ایران اس کے بالکل برعکس ماڈرن اور یورپ کا ہم پلہ ملک ہے‘ پورا ملک روڈ نیٹ ورکس‘ ریلوے اور فلائیٹس کنکشنز سے جڑا ہوا ہے‘ ایران میں 13 ائیرلائینز اور ساڑھے تین سو ائیرپورٹس ہیں‘ سڑکوں کے کنارے تجاوزات اور گند نظر نہیں آتا‘ بھکاری بھی دکھائی نہیں دیتے‘ لاء اینڈ آرڈر مثالی ہے‘ خواتین ساری ساری رات باہر پھرتی رہتی ہیں مگر کسی کو ان کی طرف دیکھنے کی جرات نہیں ہوتی‘ ٹرینیں بہت اچھی اور صاف ستھری ہیں‘ایران پر 40سال سے اقتصادی پابندیاں ہیں‘ یہ اسے سوٹ کر گئی ہیں چناں چہ یہ لوگ سوئی سے لے کر ٹرک تک خود بنا رہے ہیں‘ ہر شہر میں بیسیوں مالز ہیں اور ان میں 90 فیصد مصنوعات ایرانی ہیں اور یہ کوالٹی میں یورپ سے بڑھ کر ہیں‘ایرانیوں نے پہاڑوں کے اندر ٹنلز بنا کر سڑکیں اور ریلوے لائنیں چلا دی ہیں‘ ہم صرف لواری ٹنل کو تعمیراتی معجزہ سمجھ رہے ہیں جب کہ ایران میں اس قسم کی سینکڑوں ٹنلز ہیں‘ شہر بڑے‘ جدید اور صاف ستھرے ہیں‘ کسی جگہ کچرا دکھائی نہیں دیتا‘ میونسپل کمیٹیاں (یہ انہیں فارسی میں شہرداری کہتے ہیں) رات کے وقت سڑکیں اور گلیاں دھوتی ہیں‘ آپ کو کسی چہرے پر مسکینی‘ بے زاری اور غربت نظر نہیں آتی‘ ایرانی خوب صورت اور صاف ستھرے لباس پہنتے ہیں‘ عام چھوٹے ورکرز بھی صاحب دکھائی دیں گے‘ خواتین میں صفائی اور سلیقہ دونوں ہیں‘ تہران میں ناک سیدھی اور خوب صورت بنانے کا خبط ہے چناں چہ جگہ جگہ ناک کی سرجری کے کلینک ہیں‘ اس مناسبت سے تہران کو ’’نوز کیپیٹل‘‘ کہا جاتا ہے‘ خواتین بہت تگڑی ہیں‘ گھر میں کون مہمان آئے گا یہ فیصلہ عورتیں کرتی ہیں‘ یہ بازاروں اور دفتروں میں کام بھی کرتی ہیں‘ لڑکے شادی کر کے بیوی کے ساتھ چلے جاتے ہیں جب کہ لڑکیاں شادی کے بعد بھی والدین کے ساتھ رہتی ہیں چناں چہ لوگ بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیوں سے زیادہ پیار کرتے ہیں‘ یہ لوگ ہر جمعرات کی شام والدین سے ملاقات کے لیے آتے ہیں اور کھانا ان کے ساتھ کھاتے ہیں‘ ایرانیوں کو سالگرہ منانے کا بہت شوق ہے ‘ یہ باقاعدگی سے سالگرہ پارٹیاں کرتے ہیں‘ بچے والدین کو پیسے نہیں دیتے چناں چہ والدین مرنے تک خودمختار رہتے ہیں اور یہ اس کے لیے بڑھاپے تک پیسے جمع کرتے ہیں تاکہ انہیں پچھلی عمر میں بچوں کی طرف نہ دیکھنا پڑے‘ میرے دوست حسین باقری اپنے والدین کو پاکستان پیسے بھجواتے ہیں‘ ان کی بیگم الہام اس پر بہت حیران ہوتی ہیں اور اعتراض بھی کرتی ہیں‘ ایرانیوں کے لیے یہ بات عجیب ہے‘ یہ لوگ اگر بیرون ملک چلے جائیں تو بھی یہ ایران پیسے نہیں بھجواتے‘ صرف رہائشی ملک میں سرمایہ کاری کرتے ہیں‘اس لیے وہاں بہت جلد خوش حال ہو جاتے ہیں‘ ملک سستا ہے‘ آپ تھوڑے سے پیسوں سے اچھا گزارہ کر لیتے ہیں‘ خوراک میں خود کفیل ہیں‘ اپنی ضرورت کی خوراک خود پیدا کرتے ہیں اور یہ کوالٹی میں پاکستان سے زیادہ معیاری ہے‘ خوراک میں ملاوٹ کا تصور نہیں‘ اس معاملے میں ریاست کا بہت کنٹرول ہے لہٰذا ایران میں خوراک اور ادویات غیر معیاری ہو ہی نہیں سکتیں‘ چلو کباب بہت کھاتے ہیں‘ فارسی میں چاول کو چلو کہتے ہیں‘ چلو کباب میں چاولوں کے ساتھ کباب اور بھنا ہوا ثابت ٹماٹر ہوتا ہے‘ زعفران بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں‘ یہ اسے کھانوں میں بھی ڈالتے ہیں اور چائے میں بھی‘ چائے دودھ کے بغیر قہوے کی شکل میں ہوتی ہے اور یہ سارا دن اسے پیتے رہتے ہیں‘ گوشت کے ساتھ سبزیاں ضرور کھاتے ہیں‘ ایران میں کھیرا سبزی کی بجائے فروٹ ہے لہٰذا یہ آپ کو میز پر سیب اور انگور کے ساتھ ملے گا‘ یہ اسے خیار کہتے ہیں‘فارسی میں کھیرا بہت ہی برا لفظ ہے چناں چہ آپ اسے وہاں کھیرا کہنے کی غلطی نہ کیجیے گا‘ بڑی مار پڑے گی۔ ایرانی معاشرہ لبرل ہے‘ میوزک عام ہے بلکہ ایران میں اب باقاعدہ کنسرٹ ہوتے ہیں‘ حجاب کی پابندی بھی دم توڑ رہی ہے‘ آپ کو شہروں بالخصوص تہران میں ننگے سر خواتین بھی دکھائی دیتی ہیں تاہم مشہد اور مذہبی مقامات پرحجاب کا خیال رکھا جاتا ہے‘ نوجوان شادی نہیں کرتے‘ یہ دو تین سال اکٹھے رہتے ہیں اور پھر شادی کا فیصلہ کرتے ہیں‘ یہ رجحان پورے ایران میں عام ہے‘ پورے ملک میں جوڑے نظر آتے ہیں اور کوئی ان کا نکاح نامہ چیک نہیں کرتا‘ ڈیٹنگ ایپس بھی عام ہیں‘ نوجوان ان سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں‘لوگ تیزی سے انگریزی سیکھ رہے ہیں‘ یہ مولویوںکو پسند نہیں کرتے اور یہ مزید آزادی چاہتے ہیں‘ شراب خانے اور ڈسکوز بالکل نہیں ہیں لہٰذا لوگ اس ’’ضرورت‘‘ کے لیے آذر بائیجان‘ ترکی اور دوبئی جاتے ہیں‘ ترکی میں ایرانیوں کی سرمایہ کاری 800 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے‘ آپ کو یہ اعدادوشمار مبالغہ محسوس ہوں گے لیکن یہ ایرانی حکومت کا دعویٰ ہے‘ آپ اگر ترکی جائیں تو آپ کو یقین آ جائے گا‘ آپ کو وہاں ایران سے زیادہ ایرانی ملیں گے‘ عوام اپنے ملک سے بے انتہا محبت کرتے ہیں‘ یہ دوسرے ملکوں کی شہریت لینے کے بعد دوبارہ ایران آ جاتے ہیں‘مشہد کے لوگ امارت کی خاص حدکو ٹچ کرنے کے بعد درویش ہو جاتے ہیں‘ یہ چھوٹے گھروں‘ چھوٹی گاڑیوں اور کم سے کم کپڑوں پر اکتفا کرلیتے ہیں‘ سیروتفریح کے بہت شوقین ہیں‘ نو روز کے 15 دنوں میں پورا ملک دوسرے شہر چلا جاتا ہے چناں چہ ہوٹل اور گیسٹ ہائوسز میں جگہ نہیں ملتی‘ اہل تشیع سفر کے دوران روزے نہیں رکھتے لہٰذا نوجوان رمضان میں سفر شروع کر دیتے ہیں‘ یہ اپنے شہر سے دوسرے شہر چلے جاتے ہیں‘ مجھے ہوٹلوں میں سینکڑوں ایسے جوڑے ملے جو رمضان میں ’’نارمل‘‘ زندگی گزار رہے تھے‘ ہوٹلوں میں ناشتہ‘ لنچ اور ڈنر چلتا رہتا ہے اور رمضان کی زیادہ پابندی نہیں ہوتی‘ یہ کوکا کولا کو نوشابہ کہتے ہیں‘ کوکا کولا نوشابہ سیاہ اور فینٹا نوشابہ زرد کہلاتا ہے‘ کوکا کولا نے ایران میں خوش گوار کے نام سے لسی کے کین بھی متعارف کرا دیے ہیں‘ میں نے کین میں لسی صرف ایران میں دیکھی‘ملک میں الکوحل فری بیئر بھی عام ہے‘ بجلی‘ پٹرول اور گیس بہت سستی ہے‘ تہران میں ڈیڑھ سو خاندانوں پر مشتمل ایک شیرازی فیملی رہتی ہے‘ یہ لوگ پاکستانی ہیں لیکن نسلوں سے ایران میں رہ رہے ہیں‘ عینک کے کاروبار پر ان کی مکمل اجارہ داری ہے‘ آپ کو ایران میں جہاں بھی سڑکوں پر کوئی شخص عینک بیچتا نظر آئے تو وہ شیرازی ہو گا اور پاکستانی ہو گا‘ آپ آنکھیں بند کر کے اس کے ساتھ اردو بولیں وہ آپ کو اردو میں جواب دے گا‘ یہ لوگ غیرقانونی ہیں اور ان کے پاس پاکستان اور ایران دونوں ملکوں کے کاغذات نہیں ہیں‘ ایرانی مرد گھروں میں عورتوں کے ساتھ کام کراتے ہیں‘ ان کا صدر بھی گھر پر پلیٹیں دھوتا ہے‘ گھروں میں صفائی اور کچن کے لیے ملازم نہیں رکھتے‘ ارب پتی ایرانی کھانا خود بناتے ہیں اور گھر کی صفائی خود کرتے ہیں‘ امام خمینی بھی اپنی بیگم کے مہمانوں کو خود چائے بنا کر دیتے تھے‘ ریستوران بہت اچھے اور پورے ملک میں ہیں‘ لوگ وہاں کھانا پسند کرتے ہیں‘ کرنسی بہت کم زور ہے‘ ایک ڈالر میں 13لاکھ ریال آتے ہیں لیکن اس کے باوجود لوگ خوش حال اور مطمئن ہیں‘ ایرانی حکومت خریداری کو مشینوں پر لے گئی ہے‘ مجھے کسی جگہ نوٹ نظر نہیں آیا‘ سٹریٹ سنگر اور ویٹرز بھی کریڈٹ کارڈ مشین کے ذریعے ٹپ لیتے ہیں‘ ٹیکسیوں میں بھی مشینیں لگی ہیں یا پھر آن لائین پے منٹ ہوتی ہے‘ تہران میں ہزار سے زائد اپارٹمنٹس کی عمارتیں ہیں چناں چہ یہ آپ کو دور سے دوبئی‘ باکو یا لندن محسوس ہو گا۔ یہ ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہیں‘ انہوں نے 2011ء میں امریکی ڈرون آرکیو 170 ہیک کر کے زمین پر اتار لیا تھا اور بعدازاں ’’ری ورس انجینئرنگ‘‘ کر کے اس جیسے ڈرون بنانے شروع کر دیے‘ یہ دنیا میں ڈرون کو ہیک کر کے اتارنے کا پہلا واقعہ تھا تاہم جون 2025ء کے اسرائیلی حملوں نے ایران کو بہت نقصان پہنچایا‘ ملک میں یونیورسٹیوں کی تعدادباقی اسلامی ملکوں کی نسبت زیادہ ہے‘ کل 314یونیورسٹیاںہیں‘میڈیکل کالج اور انجینئرنگ یونیورسٹیاں ان کے علاوہ ہیں‘ انجینئرنگ کالجز بہت مضبوط ہیں‘ سڑکیں‘ ٹنلز‘ آئل اور گیس کی تلاش‘ آٹو موبائل‘ ہارڈویئرز‘ معدنیات اور ٹولز یہ تمام انڈسٹریز لوکل انجینئرز اور ٹیکنالوجی سے چل رہی ہیں‘ اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی ٹیکنالوجی‘ آلات اور ماہرین امپورٹ نہیں کر سکتے لہٰذا انہوں نے اپنی ہر ضرورت ملک کے اندر پوری کر لی‘ زراعت کا محکمہ بھی بہت مضبوط ہے‘ یہ اپنی ضرورت کی تمام اجناس ملک کے اندر پیدا کر رہے ہیں‘ پورے ملک میں ہائی رائز بلڈنگز ہیں اور یہ بھی انہوں نے خود بنائی ہیں‘ کرنسی کی گراوٹ کے باوجود کسی شہر میں غربت نظر نہیں آتی‘ لوگ مطمئن‘ خوش حال اور خوش دکھائی دیتے ہیں‘ یونیورسٹی تک تعلیم فری ہے چناں چہ یونیورسٹیاں بھری ہوئی ہیں‘ کتابیں پڑھنے کا بہت رجحان ہے‘ دنیا جہاں کی کتابیں فوراً ترجمہ کرتے ہیں اور یہ لاکھوں کی تعداد میں بکتی ہیں‘ کتابیں چھاپنے کی ٹیکنالوجی جدید اور مغربی معیار کی ہے‘ میں نے تمام بیسٹ سیلر کتابیں فارسی میں دیکھیں اور لوگ یہ خرید بھی رہے تھے‘ لائبریریاں خوب صورت اور وسیع ہیں‘ کتابوں کی دکانوں میں کافی اور چائے کے کارنر ہیں‘ آپ چائے کافی لے کر بک شاپ میں پوری کتاب پڑھ سکتے ہیں‘ دکان دار آپ کو نہیں روکے گا‘ مجھے مشہد میں فردوسی یونیورسٹی کے ایسٹ سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں جانے کا اتفاق ہوا‘ وہاں ڈیڑھ درجن پروفیسر تھے‘ میں ان کے سوالوں اور نظم وضبط سے بہت متاثر ہوا‘ ان میں تین لوگ پاکستان کے ماہر تھے اور ہمارے ملک کے بارے میں ہم سے زیادہ جانتے ہیں‘ انگریزی جاننے والے لوگ بہت کم ہیں مگر لوگ اب ٹیوشن رکھ کر انگریزی سیکھ رہے ہیں‘ ایران نے مہنگائی اور غربت کا خوب مقابلہ کیا‘ میں اگر آپ کو یہ بتائوں دنیا میں مہنگائی سرے سے کوئی ایشو نہیں اور پاکستان میں بھی مہنگائی نہیں ہے تو آپ یقینا مجھے برا بھلا کہیں گے مگر حقیقت یہی ہے مہنگائی ہمارے ملک میں مسئلہ ہے اور نہ دنیا کے دوسرے خطوں میں‘ اصل ایشو آمدنی ہے اگر آپ کی آمدنی مہنگائی سے دو چار گنا زیادہ ہے تو پھر آپ کو ہر چیز سستی محسوس ہو گی‘ ہمارے ملک کااصل مسئلہ بھی آمدنی ہے‘ ہمارے لوگوں کی آمدنی مہنگائی سے کم ہے چناں چہ یہ رو رہے ہیں‘ میں اکثر اپنے سیاست دانوں سے درخواست کرتا رہتا ہوں آپ جتنا زور مہنگائی پر لگا رہے ہیں آپ اگر اس سے آدھی توجہ آمدنی پر دے دیں تو عوام کے مسئلے حل ہو جائیں گے مثلاً ہم اگر آج ملک میں کم از کم آمدنی لاکھ روپے کر دیں تو کل سے لوگوں کو آٹا‘ دال‘ چینی‘ دودھ‘ دہی‘ بجلی‘ گیس اور پٹرول سستا محسوس ہونے لگے گا ‘ہماری حکومت کو چاہیے یہ دل بڑا کر کے اس بجٹ میں کم سے کم آمدنی لاکھ روپے کر دے‘بے شک اس سے پوری اکانومی کو جھٹکا لگے گا مگر سال چھ ماہ بعد ہر چیز درست سمت میں چل نکلے گی تاہم اس سے قبل حکومت کو ایک اور کام کرنا ہوگا‘ اسے اکانومی کو کرنسی نوٹ سے کارڈ پر شفٹ کرنا ہو گا‘ اکانومی کا سب سے بڑا بگاڑ کرنسی نوٹ ہیں‘ حکومت کو زیادہ نوٹ چھاپنے پڑتے ہیں اور ان سے پوری معیشت بیمار ہو جاتی ہے‘اس کے برعکس اگر تمام پے منٹس کارڈز کے ذریعے ہوں تو اکانومی صرف ڈیجٹس میں رہ جائے گی کوئی کسی کو کچھ دے گا اور نہ لے گا اور یوں معاشی پہیہ چل پڑے گا‘ ایران نے یہی کیا‘ یہ لوگ پوری معیشت کو کارڈز اور آن لائین پے منٹس پر لے آئے ہیں اور لوگوں کی کم سے کم آمدنی میں اضافہ کر دیا چناں چہ عوام کو اب مہنگائی محسوس نہیں ہوتی‘ ہم ایران سے یہ آرٹ بھی سیکھ سکتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…