جمعرات‬‮ ، 18 جون‬‮ 2026 

ٹیکس وصولی میں تنخواہ دار طبقہ سرفہرست،266 ارب روپے جمع کروائے

datetime 6  جنوری‬‮  2026 |

کراچی (این این آئی)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تنخواہ دار طبقہ بدستور ٹیکس بوجھ کا سب سے بڑا حصہ برداشت کر رہا ہے اور رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران تنخواہ دار طبقے نے قومی خزانے میں نمایاں طور پر زیادہ رقم جمع کرائی ۔جاری مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ میں تنخواہ دارطبقے نے مجموعی طور پر 266 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں ادا کیے، جو گزشتہ سال اسی مدت کیمقابلے میں 23 ارب روپے زیادہ ہیں،اس اضافے سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ براہِ راست ٹیکسوں میں سب سے بڑا حصہ تنخواہ دار افراد ادا کرتے ہیں۔ایف بی آرکے اعداد و شمار کے مطابق تنخواہ دار افرادکو اپنی مجموعی آمدن کا 38 فیصد تک ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے،حکام کے مطابق مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے دبا کے باوجود تنخواہوں سے ٹیکس کی کٹوتی بلا تعطل جاری ہے۔نان کارپوریٹ تنخواہ دار ملازمین نے چھ ماہ کی مدت کے دوران 117 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔

اس شعبے سے ٹیکس وصولی میں 14 فیصد اضافہ ہوا،نان کارپوریٹ ملازمین نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 23 ارب روپے زیادہ ٹیکس ادا کیا۔کارپوریٹ شعبے میں کام کرنیوالے ملازمین نے مالی سال کے پہلے نصف حصے کے دوران 82 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا،ایف بی آر کے مطابق کارپوریٹ ملازمین کی جانب سے ٹیکس ادائیگی میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔ریئل اسٹیٹ کے شعبے سے ٹیکس وصولی میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ چھ ماہ کے دوران 126 ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس جمع کیا گیا۔ایف بی آر کے اعدادوشمار کے مطابق پلاٹس کی فروخت پر ٹیکس کی وصولی میں 66 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 87 ارب روپے تک پہنچ گئی،اس کے علاوہ، پلاٹس کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس میں 29 فیصد اضافہ ہوا اور یہ ریکارڈ سطح 39 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

صوبائی حکومت کے ملازمین کی جانب سے ادا کیے گئے انکم ٹیکس میں گزشتہ مدت کے مقابلے میں 39 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی،اس کے برعکس،وفاقی حکومت کے ملازمین سے انکم ٹیکس کی وصولی میں 8 فیصد اضافہ ہوا اور چھ ماہ میں یہ 27 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ایف بی آر کے مطابق جولائی سے دسمبر 2025 تک مجموعی انکم ٹیکس کی وصولی 3,000 ارب روپے سے تجاوز کر گئی،تاہم تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جا سکا،اوراس مالدارطبقیسے وصولیوں میں کوئی بہتری نہیں آئی۔صرف تنخواہ دار طبقے نیہی ملک بھرمیں جمع ہونے والے کل انکم ٹیکس کا تقریبا 10فیصد حصہ فراہم کیا، گزشتہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے نے کل 555 ارب روپے ٹیکس ادا کیے۔



کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…