اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

صبا قمر اور عثمان مختار کے ڈرامے میں بولڈ مناظر نے سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کردیا

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

لاہور (این این آئی)اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بے غیرتی اور بے حیائی کی کھلی چھوٹ کوئی پوچھنے والا نہیں نہ ہی خود کوئی شرم وغیرت ہے،بس موجیں ہی موجیں ـصبا قمر اور عثمان مختار کے ڈرامے پامال کی حالیہ قسط میں دکھائے گئے بولڈ مناظر نے سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کردیا۔ڈرامہ پامال زنجبیل عاصم شاہ کی تحریر اور خضر ادریس کی ہدایت کاری میں بنایا گیا ہے، جبکہ اس کی پروڈیوسر تحریم چوہدری ہیں۔کہانی ایک مصنفہ ملکہ(صبا قمر)کے گرد گھومتی ہے، جس نے شادی سے پہلے اور بعد دونوں ادوار میں مشکلات بھری زندگی گزاری ہے۔

اب تک پامال کی 12 اقساط نشر ہو چکی ہیں۔ تازہ قسط میں رضا (عثمان مختار)اور ملکہ(صبا قمر)کے درمیان اسپتال میں ملاقات کا منظر دکھایا گیا، جہاں ملکہ اپنے شوہر کو دیکھ کر جذباتی انداز میں انہیں گلے لگاتی ہے۔ یہ منظر بغیر سینسر کیے نشر کیا گیا جس پر ناظرین کی بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پر سخت ردِعمل دیا۔ایک صارف نے لکھا،کوئی تو صبا قمر کی شادی کروا دے۔ایک اور صارف نے تنقید کی ڈائریکٹر کو شرم آنی چاہیے، یہ پاکستانی ڈرامہ ہے یا بھارتی شو؟کئی صارفین نے شکایت کی کہ اب ڈراموں میں غیر ضروری بولڈ مناظر دکھائے جا رہے ہیں۔ ایک نے کہا،کیا اب ہم یہ ڈرامے فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ بھی سکتے ہیں یا نہیں؟ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا،شکر ہے میرے والد اس وقت ساتھ نہیں بیٹھے تھے، ورنہ یہ منظر دیکھنا بہت مشکل تھا۔بعض نے عثمان مختار پر بھی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان سے یہ توقع نہیں تھی۔

صبا قمر کے بارے میں ایک صارف نے لکھا،صبا قمر کو ہمیشہ بولڈ کرداروں میں ہی دیکھا ہے، لگتا ہے وہ بھول جاتی ہیں کہ یہ پاکستانی ڈرامہ ہے، کوئی بالی ووڈ فلم نہیں۔ڈرامہ پامال اپنی کہانی اور کرداروں کی گہرائی کے باعث مقبول ہو رہا ہے، تاہم حالیہ تنازع نے اداکاری میں حدود و قیود پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…