ہفتہ‬‮ ، 20 جون‬‮ 2026 

نئے گیس کنکشن پر عائد پابندی ختم کرنے کیلئے بڑااقدام اٹھالیاگیا

datetime 18  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد: وفاقی حکومت اس امر پر متفق دکھائی دیتی ہے کہ نئے گھریلو گیس کنکشنز درآمدی ری-گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کے نرخوں پر فراہم کیے جائیں۔ اس وقت یہ قیمت تقریباً 3 ہزار 900 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے، جو پرانے نرخوں سے تقریباً چار گنا زیادہ بنتی ہے۔

ذرائع کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن نے کابینہ کو سمری ارسال کر دی ہے جس میں تجویز دی گئی ہے کہ پابندی ختم کر کے پہلے مرحلے میں ایک لاکھ 20 ہزار نئے کنکشن فراہم کیے جائیں۔ ان درخواست دہندگان کو ترجیح دی جائے گی جنہیں پہلے ڈیمانڈ نوٹس مل چکے تھے یا جنہوں نے ایمرجنسی فیس ادا کر رکھی تھی مگر پابندی کے باعث کنکشن نہیں مل سکے۔ اگلے برس یہ تعداد مزید بڑھانے کا ارادہ ہے۔

سرکاری تخمینوں کے مطابق تقریباً ڈھائی لاکھ افراد ایسے ہیں جنہیں یہ حلف نامہ دینا ہوگا کہ وہ فیس میں اضافے یا پرانے دعوؤں کے سلسلے میں عدالت سے رجوع نہیں کریں گے۔ ماضی میں صارفین 25 ہزار روپے ادا کر کے ترجیحی بنیادوں پر کنکشن حاصل کر لیتے تھے جبکہ عام فیس 5 سے ساڑھے 7 ہزار روپے تھی۔ اس کے برعکس نیا ایل این جی کنکشن 15 ہزار روپے میں دیا جاتا رہا ہے۔

فی الحال ملک بھر میں 35 لاکھ سے زائد درخواستیں زیر التوا ہیں۔ گیس کمپنیاں نئے کنکشنز کو بنیادی ڈھانچے پر منافع کمانے کا ذریعہ قرار دیتی ہیں، مگر اس سے نقصانات اور ریکوری کے مسائل بڑھ جاتے ہیں، ساتھ ہی سردیوں میں قلت مزید شدید ہو جاتی ہے۔ اسی لیے سوئی ناردرن گیس کمپنی پہلے ہی سردیوں کے سیزن میں صارفین کو محدود وقت کے لیے گیس فراہم کر رہی ہے۔

مزید یہ کہ یکم جولائی 2025 سے مقررہ چارجز میں 50 فیصد اضافہ کر دیا گیا تاکہ بغیر اضافی گیس فراہم کیے زیادہ ریونیو اکٹھا کیا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پابندی پہلی بار 2009 میں لگائی گئی تھی، جو بعد ازاں 2015 میں جزوی طور پر ختم ہوئی، مگر 2022 میں قلت کی وجہ سے دوبارہ نافذ کر دی گئی۔ حالیہ دنوں میں وزیراعظم شہباز شریف نے نئے کنکشنز میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

اب نئی کنکشن فیس 40 سے 50 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے، جبکہ صارفین کو آر ایل این جی کے نوٹیفائیڈ نرخوں پر بل ادا کرنا ہوگا۔ اس حساب سے جنرل سیلز ٹیکس سمیت قیمت تقریباً 3 ہزار 900 سے 4 ہزار روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچتی ہے۔

حکومت نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ ایل پی جی کی قیمت تقریباً 5 ہزار 300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے، جس کا مطلب ہے کہ پائپ لائن کے ذریعے فراہم کی جانے والی ایل این جی اب بھی 35 تا 40 فیصد سستی ہوگی۔

فاضل گیس کا مسئلہ

ذرائع کے مطابق نیٹ ورک میں موجود اضافی ایل این جی کو کھپانے کے لیے نئے کنکشنز کی اجازت دینے کی تجویز سامنے لائی گئی ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اگر طلب بڑھا کر یہ مسئلہ حل نہ کیا گیا تو درآمدی معاہدے اور پائپ لائن نظام خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اوگرا طویل عرصے تک گھریلو صارفین پر ایل این جی کی لاگت منتقل کرنے کی مخالفت کرتا رہا، لیکن اب اس نے 75 ارب روپے کے ریونیو کلیمز منظور کر لیے ہیں اور مستقبل میں مزید اخراجات صارفین پر ڈالنے کی نشاندہی کی ہے۔

فی الوقت مقامی گیس کے ذخائر کو بند کر کے درآمدی ایل این جی کے لیے جگہ بنائی جا رہی ہے، حالانکہ اس کی قیمت ملکی پروڈیوسرز کے نرخوں سے دوگنی ہے۔ اس پالیسی سے نہ صرف ملکی ذخائر ضائع ہو رہے ہیں بلکہ مقامی کمپنیوں کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے، جو مستقبل کی پیداوار پر بھی اثرانداز ہوگا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ قطر سے طے شدہ طویل مدتی معاہدوں کے تحت ہر ماہ کم از کم تین اضافی کارگو اس وقت غیر ضروری ہو چکے ہیں۔ گزشتہ سردیوں میں بھی پاکستان نے پانچ کارگو مؤخر کیے تھے جو اب مالی سال 2026 میں دوبارہ شیڈول ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…