اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

سالانہ 250 ارب روپے کی بجلی چوری ہو رہی ہے، وفاقی وزیر توانائی کا قائمہ کمیٹی میں انکشاف

datetime 8  جولائی  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو آگاہ کیا ہے کہ سالانہ 250 ارب روپے کی بجلی چوری ہورہی ہے، کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے 600 میگاواٹ تک بجلی لے سکتی ہے، اقدام سے کے الیکٹرک کے پاس 2 ہزار میگاواٹ بجلی ہو جائے گی۔رکن قومی اسمبلی محمد ادریس کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے پاور کا اجلاس ہوا، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے حکام نے بتایا کہ اگر جامشورو میں فالٹ آئے تو پورا حیسکو بلیک آؤٹ میں چلا جاتا ہے، جامشورو کے گرڈ میں فالٹ کا مطلب 13 شہروں کا بجلی سے محروم ہونا ہے۔

وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ جامشورو گرڈ بھی تب بلیک آوٹ میں جاتا ہے جب نیشنل بلیک آؤٹ ہو، مجھے یاد نہیں کہ جامشورو گرڈ میں الگ سے کوئی فالٹ آیا ہو۔حیسکو کے حکام نے کہا کہ ماضی میں بھی جامشورو گرڈ میں فالٹ آیا تھا جس سے پورا حیسکو متاثر ہوا، اس لیے ہم نے متبادل گرڈ اسٹیشن کے لیے درخواست کی ہے، ہم چاہتے ہیں حیسکو کو 220 کے وی کا متادل گرڈ اسٹیشن دیا جائے، حیسکو کو متبادل گرڈ مٹیاری اور نواب شاہ سے دیے جا سکتے ہیں۔کمیٹی کے رکن سید وسیم حسین نے کہا کہ جامشورو گرڈ میں فالٹ آنے سے پورا کراچی بھی متاثر ہوتا ہے۔وفاقی وزیر برائے توانائی نے کہا کہ جامشورو گرڈ کا کے الیکڑک کے ساتھ تو کوئی تعلق ہی نہیں ہے، کے الیکٹرک کا بجلی کا سارا نظام بالکل الگ ہے۔اویس لغاری نے کہا کہ کے الیکٹرک اب نیشنل گرڈ سے 600 میگاواٹ تک بجلی لے سکتی ہے، اس سے کے الیکٹرک کے پاس 2 ہزار میگاواٹ بجلی ہو جائے گی، متبادل گرڈ کی ضرورت کے حوالے سے پہلے ہم ایک رپورٹ تیار کروالیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس سے پہلے ایک اتھارٹی کا رول کیسے ادا کر سکتے ہیں، میرے لیے کنکشن دینا آسان ہے، اس سے بجلی زیادہ استعمال ہوگی، زیادہ بجلی استعمال ہوگی تو بجلی کے ریٹ کم ہو جائیں گے، بجلی کی قیمت اس لیے ہی زیادہ ہے کیوں کہ بجلی کا استعمال کم ہے۔رانا سکندر حیات نے کہا کہ اس لیے سوسائٹیوں میں کنیکشن دیں تاکہ استعمال بڑھے۔اویس لغاری نے کہا کہ یہ بجلی کے محکمے کا تو فائدہ ہے، لیکن قومی نقصان ہے، اتھارٹیز سے ڈیمانڈ نوٹس بھجوا دیں ہم کنکشن لگا دیں گے، 500 ارب کی بجلی چوری نہیں ہے، بجلی چوری 250 ارب سالانہ ہے۔رانا سکندر حیات نے کہا کہ باقی بلوں میں ریکور نہ ہونے والی رقم ہے، ملک انور تاج نے کہا کہ 200 یونٹ اور 201 یونٹ کا معاملہ آج کل لوگوں میں زیر بحث ہے، انہوں 200 اور 201 یونٹ پر بلوں میں فرق کا ایجنڈا شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔کمیٹی کے رکن ملک انور تاج نے کہا کہ ایجنڈا شامل کیا جائے کہ ایک یونٹ کے فرق پر بل اتنا کیوں بڑھ جاتا ہے؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…