پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

بجٹ میں درآمدی گاڑیاں سستی ہونے کا امکان

datetime 16  مئی‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)پاکستان میں گاڑیوں کے خریداروں اور آٹو انڈسٹری سے وابستہ حلقوں کے لیے ایک بڑی پیش رفت متوقع ہے، کیونکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ 2025-26 میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی پالیسی میں اہم نرمی لانے پر غور کیا جا رہا ہے،اس مجوزہ پالیسی کا مقصد ملکی مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ دینا اور صارفین کو مزید سہولت فراہم کرنا ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)آئندہ بجٹ میں تین سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی موجودہ حد کو بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز پر غور کر رہا ہے۔

فی الحال حکومت صرف مخصوص اسکیموں جیسے کہ پرسنل بیگیج، ٹرانسفر آف ریزیڈنس، اور گفٹ اسکیم کے تحت تین سال تک پرانی کاروں اور پانچ سال تک پرانے ایس یو ویز کی درآمد کی اجازت دیتی ہے، تاہم نئی پالیسی کے تحت تمام اقسام کی گاڑیوں کے لیے عمر کی حد کو یکساں طور پر پانچ سال کیا جا سکتا ہے۔پچھلے مالی سال کے بجٹ (2024-25) میں 1300 سی سی سے زائد استعمال شدہ گاڑیوں پر 15 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی تھی۔ تاہم اب حکومت مکمل تیار شدہ گاڑیوں (CBU) پر ٹیرف کو 10 فیصد سے کم کرنے اور پانچ سال کے اندر آٹو سیکٹر کے تمام ٹیرف کو سنگل ڈیجیٹ سطح پر لانے پر بھی غور کر رہی ہے۔ٹیکس ماہرین نے بتایا کہ ایف بی آر نے ان اسکیموں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں تاکہ صرف مستحق افراد ہی ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔ امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کے تحت بیرونِ ملک مقیم پاکستانی وہی گاڑیاں درآمد کر سکتے ہیں جو انہوں نے پچھلے دو سال کے دوران نہ درآمد کی ہوں، نہ تحفے میں دی ہوں، اور نہ کسی اور طریقے سے حاصل کی ہوں۔

مزید برآں، ایف بی آر نے وضاحت کی ہے کہ اگر کسی پرانی گاڑی پر درآمد یا مقامی خریداری کے وقت سیلز ٹیکس ادا کیا جا چکا ہو، تو کسٹمز نیلامی کے دوران 18 فیصد سیلز ٹیکس دوبارہ لاگو نہیں ہوگا۔ البتہ ایسی گاڑیاں جو ناقابلِ استعمال یا خراب ہوں، ان کی نیلامی پر سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا، چاہے وہ پہلے ادا کیا گیا ہو یا نہیں۔یہ مجوزہ اقدامات گاڑیوں کی دستیابی، قیمتوں میں کمی اور آٹو سیکٹر میں مسابقت کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…