اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

چینی کی قیمت 250 روپے ہو جانے کا امکان

datetime 11  مارچ‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ملک میں چینی کی قیمت 250 روپے فی کلو تک پہنچنے کا امکان ہے، حالانکہ شوگر ملوں کے پاس وافر ذخیرہ موجود ہے، لیکن مارکیٹ میں چینی فراہم نہ کیے جانے کے باعث قیمت میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، حکومت کی جانب سے چینی کی برآمد کی اجازت دیے جانے کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالرؤف ابراہیم کا کہنا ہے کہ ملک میں چینی کی قلت نہیں، لیکن شوگر ملیں جان بوجھ کر فروخت سے گریز کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شوگر ملز ہر صورت منافع میں ہی رہتی ہیں، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ چند ماہ میں چینی کی قیمت 250 روپے فی کلو تک جا سکتی ہے۔

عبدالرؤف ابراہیم نے اس صورتحال پر حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چینی کے مصنوعی بحران کے پیچھے کارٹلائزیشن اور سٹے بازی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے چینی برآمد کی جاتی ہے، پھر اسی چینی کو دوبارہ درآمد کر کے مہنگے داموں بیچا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب گنا 450 روپے فی من خریدا گیا تو چینی کی قیمت 100 روپے سے زیادہ کیوں ہو؟

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ذخیرہ شدہ چینی کو مارکیٹ میں لایا جائے تو قیمت میں استحکام آ سکتا ہے۔ تاہم، حالات یہ ہیں کہ لوگ ایک کلو چینی کے بجائے اب آدھا کلو خریدنے پر مجبور ہیں۔

وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق، ملک میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ رمضان المبارک کے پہلے ہفتے میں چینی مزید مہنگی ہوئی، جو مسلسل چودہواں ہفتہ تھا جب چینی کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا۔ گزشتہ ہفتے کے دوران چینی کی قیمت میں 5 روپے فی کلو کا اضافہ ہوا، جبکہ رمضان کے آغاز کے بعد کراچی، لاہور اور پشاور سمیت دیگر شہروں میں بھی چینی کے نرخ بڑھا دیے گئے۔

رمضان کے ابتدائی چھ دنوں میں ہی چینی کی قیمت میں 15 سے 20 روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد فی کلو قیمت 170 روپے تک پہنچ گئی۔ ہول سیل مارکیٹ میں چینی 160 روپے فی کلو جبکہ پرچون مارکیٹ میں 175 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔

پشاور میں بھی شہری چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان ہیں، جہاں ہول سیل نرخ 164 روپے جبکہ پرچون میں چینی 175 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔ لاہور میں چینی کی قیمت 170 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے، جبکہ 50 کلو کے تھیلے کی قیمت میں 250 روپے اضافے کے بعد یہ 8250 روپے تک پہنچ گیا ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ رمضان کے دوران چینی کی قیمت 200 روپے فی کلو ہونے کا قوی امکان ہے۔ انہوں نے اس مہنگائی کا ذمہ دار حکومت اور شوگر ملوں کو ٹھہرایا ہے۔

تاجروں کے مطابق، حکومت کو خبردار کیا گیا تھا کہ رمضان سے قبل چینی کی برآمد کی اجازت نہ دی جائے، ورنہ چینی مہنگی ہو جائے گی، لیکن حکومت نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں چینی کا وافر ذخیرہ موجود ہے، اس لیے برآمدات کے باوجود قیمت میں اضافہ نہیں ہوگا۔ تاہم، یہ حکومتی دعویٰ غلط ثابت ہوا اور چینی کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…