پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

کتنا ٹیکس دینا ہوگا؟ سولر پینل استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بڑی خبر

datetime 8  مارچ‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سولر پینل استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے، جس کے مطابق تقریباً ڈھائی لاکھ نیٹ میٹرنگ صارفین کو مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، وفاقی محتسب برائے انکم ٹیکس پاکستان نے ایک فیصلے میں واضح کیا ہے کہ سولر پینل کے ذریعے بجلی پیدا کرنے اور نیٹ میٹرنگ سسٹم استعمال کرنے والے صارفین کو 18 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ اس فیصلے سے ملک بھر میں موجود ہزاروں سولر صارفین متاثر ہوں گے۔

وفاقی ٹیکس محتسب کے مطابق، بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں نے یہ ٹیکس وصول نہ کر کے قومی خزانے کو تقریباً 9.8 ارب روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان شمسی توانائی کے استعمال کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بہترین ملک ہے، جہاں روزانہ اوسطاً نو گھنٹے دھوپ دستیاب ہوتی ہے، جو سولر انرجی کے لیے انتہائی موزوں ہے۔

پاکستان میں مجموعی طور پر تقریباً تین کروڑ 70 لاکھ بجلی صارفین ہیں، جن میں سے صرف ڈھائی لاکھ صارفین نیٹ میٹرنگ کے ذریعے سولر سسٹم استعمال کر رہے ہیں۔

توانائی کے ماہرین وفاقی ٹیکس محتسب کے اس فیصلے کو پاکستان میں شمسی توانائی کے فروغ کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں، ان کے مطابق اس اقدام سے ملک میں سولر انرجی کی پیداوار اور اس کا رجحان متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…