پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

باسط علی کا شعیب ملک پر میچ فکسنگ کا الزام؛ مینٹور بنانے پر پی سی بی پر برس پڑے

datetime 13  ستمبر‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)سابق کرکٹر باسط علی نے شعیب ملک کو چیمپئنز کپ کے لیے اسٹالینز ٹیم کا مینٹور بنانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔سابق بلے باز اور کوچ سمیت کئی اہم عہدوں پر فائز رہنے والے باسط علی نے اپنے یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے شعیب ملک پر میچ فکسنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو ثبوت چاہیے تو میں دیدوں گا۔باسط علی نے کہا کہ جو لوگ ملک کے بارے میں نہیں سوچ سکتے ان کی تقرری نہیں ہونی چاہیے اور جنھوں نے خود اعتراف کیا کہ وہ جان بوجھ کر ایک میچ ہارے تھے انھیں پی سی بی نے کیسے مینٹور بنادیا۔

باسط علی نے کہا کہ رمیز راجہ کو دیئے گئے انٹرویو میں شعیب ملک نے جان بوجھ کر ایک میچ ہارنے کا اعتراف خود کیا تھا۔باسط علی نے بابر اعظم کے بجائے اسٹالینز کا کپتان حارث کو بنانے پر بھی مینٹور شعیب ملک پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ بابر کے جیب سے آپ حارث جیسے 10 نکال سکتے ہیں۔انہوں نے بابر اعظم کو ”بزدل” قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ بابر کو ان حالات میں عمر اکمل یا احمد شہزاد جیسا موقف اختیار کرنا چاہیے تھا اور حارث کی کپتانی میں کھیلنے سے انکار کردینا چاہیے تھا۔

یاد رہے کہ شعیب ملک نے حارث کو کپتان منتخب کرنے پر کہا تھا کہ میں اسے کپتان منتخب کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں جس میں مہارت ہو اور وہ طویل مدت تک پاکستان کو کامیابی دلا سکے۔بابر اعظم کے ساتھ پاکستان کے ٹیسٹ کپتان شان مسعود بھی اسٹالینز ٹیم کا حصہ ہیں۔ اس کے باوجود مینٹور شعیب ملک نے حارث کی بطور کپتان حمایت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…