اسلام آباد (نیوز ڈیسک )کچھ لوگ ذرا سی پریشانی میں بھی غصے سے بے قابو ہوجاتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی سخت برہمی اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں جس سے وہ کئی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں جب کہ اس حوالے سے ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ غصے کا زیادہ اظہار کرتے ہیں ان کی زندگی مسکراتے ہوئے پریشانیوں کا سامنا کرنے والوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔
لووا اسٹیٹ یونیورسٹی کی سوشل سائنس اینڈ میڈیسن جنرل میں شائع ہونے والی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کی عمر 35 سال ہوجاتی ہے ان میں غصہ اور ناراضگی کا عنصر بڑھ جاتا ہے اور جو لوگ زیادہ غصہ کرتے ہیں وہ مزید 35 سال جیتے ہیں جب کہ ان کے مقابلے میں کم غصہ کرنے والے افراد کی عمر نہ صرف زیادہ ہوتی ہے بلکہ صحت بھی اچھی رہتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ گزشتہ تحقیقات میں یہ بات سامنے ا?ئی ہے کہ زیادہ غصہ منفی نفسیاتی بیماریوں کا باعث بنتا ہے جس میں ایتھروسکیلیروسس سب سے نمایاں ہے جس میں غصہ کرنے والے شخص کی شریانیں فیٹس پیدا کرنے والے مادہ پلیک سے بند ہوجاتی ہیں اور دل کے دورے کا باعث بن سکتی ہیں اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ ناراضگی ایسا نفسیاتی عمل ہے جو انسانی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔
تحقیق کے دوران 1968 سے 2007 کے درمیان پورے برطانیہ سے 1307 افراد کا ڈیٹا جمع کیا جو اپنے گھر کے سربراہ کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جن کی عمریں 34 سال یا اس سے زائد تھیں وہ جلدی غصے کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان میں جلدی مرنے کا خدشہ 1.57 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
ماہر نفسیات گراہم پرائس کا کہنا ہے کہ جو لوگ جلد غصے کا شکار ہوتے ہیں ان میں ماضی کے تجربات کی بنیاد پر نا انصافی سے متعلق مبالغہ ا?میزی اورغیر عقلی سوچ جیسے عنصر پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو انسان کو موت کی طرف لے جاتے ہیں، اسٹریس کو بڑھاتے ہیں جس سے زندگی کے لیے ضروری ہارمونز کورٹیسول کے خون میں اضافے کا باعث بنتا ہے اورجو خون کی گردش کو بڑھا دیتا ہے اور یہ عمل ہارٹ اٹیک کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹریس اور دیگر غصے اور ناراضگی کی شکلیں اگر طویل عرصے تک رہیں تو اس سے صحت پر منفی اثرات پڑنا شروع ہوجاتے ہیں جیسے اریٹیبل باو¿ل سینڈروم، اسٹروک، دل کا دورہ اور دیگر دل کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
برطانوی ماہر نفسیات ہیلڈ برک کا کہنا ہے کہ کچھ ناراضگیاں ذات سے متعلق ہوتی ہیں جن کو اگر بڑھنے نہ دیا جائے تو مثبت نتائج نکل سکتے ہیں لیکن کچھ غصے کی کیفیات ذات سے ہٹ کر ماحول سے جنم لیتی ہیں جیسے ٹریفک جام میں پھنس جانا، جس سے انسان سخت کوفت کا شکار ہوکر غصے کا شکار ہوجاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب غصہ شدت اختیار کر جائے تو اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو اپنی توجہ سانس لینے اور خارج کرنے پر مرکوز کریں۔
غصہ اور ناراضگی انسان کی عمر میں کمی کا باعث بنتی ہیں، تحقیق
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں کمی کردی
-
کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)
-
محمد عباس نے لارڈز ٹیسٹ میں ایسا اعزاز اپنے نام کرلیا جو عمران خان، گلین میگراتھ یا ایلن ڈونلڈ بھی ن...
-
مون سون بارشوں کے طاقتور سسٹم کی پاکستان میں انٹری! الرٹ جاری
-
اہلیہ حج پر ساتھ کیوں نہیں گئیں؟ وسیم اکرم نے بتا دیا
-
ویکیوم کلینر کے ذریعے بیوی کا افیئر پکڑنے والا شوہر، خود بھی عجیب مشکل میں پھنس گیا
-
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں یکدم بڑی کمی
-
لاہور کے چڑیا گھر میں ٹک ٹاکر نے ’شیر‘ کے پنجرے میں چھلانگ لگادی
-
کراچی، ڈیلیوری آپریشن کے بعد ڈاکٹرز کا خاتون کے حمل سے انکار، اہل خانہ کا ہنگامہ، تحقیقات شروع
-
سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش،ہوشربا انکشافات سامنے آگئے
-
راولپنڈی،قریبی عزیز کا خاتون کو ٹک ٹاک لائیو پر کام کے لیے سرگودھا سے بلاکر جتماعی زیادتی
-
پب جی موبائل کے کنٹینٹ کریئیٹر فاروق احمد چل بسے، گیمنگ کمیونٹی سوگوار
-
رکشہ ڈرائیور نے جواں سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا ء کرکے زیادتی کا نشانہ بناڈالا



















































