منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

غصہ اور ناراضگی انسان کی عمر میں کمی کا باعث بنتی ہیں، تحقیق

datetime 7  اکتوبر‬‮  2015 |
Young woman

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )کچھ لوگ ذرا سی پریشانی میں بھی غصے سے بے قابو ہوجاتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی سخت برہمی اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں جس سے وہ کئی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں جب کہ اس حوالے سے ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ غصے کا زیادہ اظہار کرتے ہیں ان کی زندگی مسکراتے ہوئے پریشانیوں کا سامنا کرنے والوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔
لووا اسٹیٹ یونیورسٹی کی سوشل سائنس اینڈ میڈیسن جنرل میں شائع ہونے والی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کی عمر 35 سال ہوجاتی ہے ان میں غصہ اور ناراضگی کا عنصر بڑھ جاتا ہے اور جو لوگ زیادہ غصہ کرتے ہیں وہ مزید 35 سال جیتے ہیں جب کہ ان کے مقابلے میں کم غصہ کرنے والے افراد کی عمر نہ صرف زیادہ ہوتی ہے بلکہ صحت بھی اچھی رہتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ گزشتہ تحقیقات میں یہ بات سامنے ا?ئی ہے کہ زیادہ غصہ منفی نفسیاتی بیماریوں کا باعث بنتا ہے جس میں ایتھروسکیلیروسس سب سے نمایاں ہے جس میں غصہ کرنے والے شخص کی شریانیں فیٹس پیدا کرنے والے مادہ پلیک سے بند ہوجاتی ہیں اور دل کے دورے کا باعث بن سکتی ہیں اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ ناراضگی ایسا نفسیاتی عمل ہے جو انسانی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔
تحقیق کے دوران 1968 سے 2007 کے درمیان پورے برطانیہ سے 1307 افراد کا ڈیٹا جمع کیا جو اپنے گھر کے سربراہ کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جن کی عمریں 34 سال یا اس سے زائد تھیں وہ جلدی غصے کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان میں جلدی مرنے کا خدشہ 1.57 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
ماہر نفسیات گراہم پرائس کا کہنا ہے کہ جو لوگ جلد غصے کا شکار ہوتے ہیں ان میں ماضی کے تجربات کی بنیاد پر نا انصافی سے متعلق مبالغہ ا?میزی اورغیر عقلی سوچ جیسے عنصر پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو انسان کو موت کی طرف لے جاتے ہیں، اسٹریس کو بڑھاتے ہیں جس سے زندگی کے لیے ضروری ہارمونز کورٹیسول کے خون میں اضافے کا باعث بنتا ہے اورجو خون کی گردش کو بڑھا دیتا ہے اور یہ عمل ہارٹ اٹیک کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹریس اور دیگر غصے اور ناراضگی کی شکلیں اگر طویل عرصے تک رہیں تو اس سے صحت پر منفی اثرات پڑنا شروع ہوجاتے ہیں جیسے اریٹیبل باو¿ل سینڈروم، اسٹروک، دل کا دورہ اور دیگر دل کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
برطانوی ماہر نفسیات ہیلڈ برک کا کہنا ہے کہ کچھ ناراضگیاں ذات سے متعلق ہوتی ہیں جن کو اگر بڑھنے نہ دیا جائے تو مثبت نتائج نکل سکتے ہیں لیکن کچھ غصے کی کیفیات ذات سے ہٹ کر ماحول سے جنم لیتی ہیں جیسے ٹریفک جام میں پھنس جانا، جس سے انسان سخت کوفت کا شکار ہوکر غصے کا شکار ہوجاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب غصہ شدت اختیار کر جائے تو اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو اپنی توجہ سانس لینے اور خارج کرنے پر مرکوز کریں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…