جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایم کیو ایم کی فوجی عدالتوں کی سختی سے مخالفت، انکو ڈر کس چیز کا ہے؟ پڑھنے کیلئے کلک کریں

datetime 24  دسمبر‬‮  2014 |

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) نے ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کی حمایت تو کر سکتے ہیں لیکن فوجی عدالتیں قائم کرنے کی حمایت نہیں کر سکتے۔

واضح رہے کہ دہشت گردوں کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے انسداد دہشت گردی ایکشن پلان کمیٹی کی جانب سے فوجی عدالت کے قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے لیکن اجلاس میں اس پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کا مشترکہ ہنگامی اجلاس منگل کی شب پاکستان، لندن اور اسلام آباد میں ہوا جس میں ایم کیوایم کے سینیٹرز اور ارکان قومی اسمبلی نے شرکت کی۔

اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ ایم کیو ایم ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ چاہتی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام ترریاستی وسائل استعمال کیے جائیں۔

اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ایم کیو ایم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کی کسی بھی قیمت پر حمایت نہیں کرے گی۔

رابطہ کمیٹی نے کہاکہ اگر سول حکومت دہشت گردی سے نمٹنے سے قاصر ہے تووہ اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اقتدارچھوڑدے، فوجی عدالتیں قائم کرنے سے بہتر ہے کہ پورے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا جائے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی بقاء وسلامتی، عوام کی جان ومال کے تحفظ اور مذہب کے نام پر دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کی حمایت تو کر سکتی ہے لیکن فوجی عدالتیں قائم کرنے کی حمایت نہیں کر سکتی۔

واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی ایکشن پلان کمیٹی کے پہلے مرحلے میں ایم کیو ایم کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام(ف) اور پیپلز پارٹی نے بھی فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کی ہے۔

جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی نے بھی فوجی عدالتوں کے قیام پر تحفظات کا اظہار کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…