اسلام ا باد۔۔۔۔ وفاقی دارالحکومت میں پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہوں کا اجلاس وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں شروع ہوگیا ہے۔عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی (میپ) کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اجلاس میں شرکت سے معذرت کرتے ہوئے نمائندے بھیجنے کا فیصلہ کیا۔اجلاس میں تمام صوبوں کو وزراء اعلیٰ کو بھی مدعو کیا گیا تھا مگر سندھ کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے طبیعت کی ناسازی کے باعث اجلاس میں شرکت سے رخصت لی ہے۔اجلاس کے ابتدائی میں ہی نواز شریف نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین دہشت گردی برداشت نہیں کرے گا، شہروں میں بھی ایک ’ضرب عضب‘ کیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ سانحہ پشاور جیسا کوئی بھی واقعہ ہونے سے قبل ہی بڑے فیصلے کرنے ہیں، اب مشکل فیصلے کرنے کا وقت ا گیا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ سانحہ پشاور نے پوری قوم کو دہشت گردوں کے خلاف یکجا کر دیا ہے، دہشت گردوں کو سزا ہو گی تو ہی قوم مطمئن ہو گی۔اشرف غنی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ افغان صدر نے بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا ہے اور اب دونوں ممالک اپنے مسائل میڈیاکے ذریعے بیانات کے بجائے مل کر حل کریں گے۔
اسفند یار اورمحمود اچکزئی نے اے پی سی میں شرکت سے کیوں انکار کیا کلک کر کے جانئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
خانیوال میں مبینہ طور پر غیر فطری جنسی عمل کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار
-
لکڑی کا تختہ
-
وفاقی حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان
-
نئے بجٹ میں تنخواہ دارطبقے اور پنشنرزکی تنخواہوں میں اضافے کا امکان
-
معروف ٹک ٹاکر حکیم بابر کو مبینہ طور پر شربت میں زہریلی چیز پلا دی گئی، اسپتال منتقل
-
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں میجر سرجری
-
یکم جون سے گرد آلود ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی! الرٹ جاری
-
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 250 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ
-
پوجا بھٹ نے اپنے باپ مہیش بھٹ کے اسلام قبول کرنے کا انکشاف کردیا
-
پسند کی شادی کرنیوالا لڑکاہلاک، لڑکی کی ٹانگیں توڑ دی گئیں
-
اقرار الحسن نے عمران خان سے معافی مانگ لی
-
ملک میں سونا ایک بار پھر مہنگا ہوگیا
-
عید کے موقع پر تصویر بنانے کے بہانے بلا کر مبینہ طور پر زہریلی چیز پلائی گئی،شکر ہے میری بیوی نے جوس...
-
امریکہ اور ایران میں معاہدہ طے پا گیا، صدر ٹرمپ کے دستخط کا انتظار



















































