اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

لولے لنگڑے فیصلوں کے بجائے مضبوط اقدامات سے ہی قوم مطمئن ہوگی،وزیر اعظم

datetime 24  دسمبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔وزیر اعظم نواز شریف کا کہتے ہیں کہ لاتعداد چھوٹی چھوٹی تنظیموں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہیں اس صورتحال میں لولے لنگڑے فیصلوں کے بجائے مضبوط اقدامات سے ہی قوم مطمئن ہوگی۔ وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں وزیر اعظم کی سربراہی میں قومی پارلیمانی جماعتوں کے قائدین کا اجلاس جاری ہے جس میں ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت کے علاقہ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی شریک ہیں۔ اجلاس کے دوران انسدادِ دہشت گردی کے پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لئے مختلف تجاویز پر غور کیا جارہا ہے۔
اجلاس کے آغاز پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی غیر معمولی صورت حال غیر معمولی اقدامات کا تقاضا کرتی ہے، لاتعداد چھوٹی چھوٹی تنظیموں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہیں۔ پشاور کا واقعہ پوری دنیا کے لئے ایک المیہ ہے، کب تک یہ لوگ قوم کے بچوں، معصوم شہریوں اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو مارتے رہیں گے۔ مجرموں کو سزا ملنے پر ہی قوم مطمئن ہوگی۔ ہم نے کمزور اقدامات اٹھائے تو قوم قبول نہیں کرے گی، پاکستان نے اس جنگ میں اب تک بھاری قیمت چکائی ہے، اس سے ہماری معیشت پر بھی کافی بوجھ پڑا ہے، دہشتگردی کینسر جیسی بیماری ہے جس کا علاج نہ کیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ اگر ہمیں ان کے خلاف سخت فیصلہ کرنا ہوں گے جو پاکستان کو جڑ سے ختم کرنا چاہتے ہیں، جو قوم کے نونہالوں کو قتل کررہے ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں رحم نہیں بلکہ پتھر ہیں، اس موقع پر لولے لنگڑے فیصلوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس سے پہلے ہم نے کبھی فیصلہ کن جنگ نہیں لڑی لیکن اب ہم نے فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیاہے، اس سے پہلے ہم نے مذاکرات کے ذریعے بھی معاملات حل کرنے کی کوشش کی۔ کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ضرب عضب کا فیصلہ ہوا اور اس سلسلے میں بھی پہلے مشاورت کی۔ اس آپریشن کی کارروائیاں انتہائی مثبت رہی ہیں۔ ضرب عضب ناصرف شمالی وزیرستان میں جاری ہے بلکہ اس سلسلے میں ہم افغان حکام سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اجلاس میں شریک تمام جماعتوں کے سامنے ملک کی موجودہ صورتحال اور سانحہ پشاور کا المناک واقعہ ہے، خدانخواستہ اس قسم کے دوسرے واقعات بھی ہوسکتے ہیں اگر ہم نے اس وقت صحیح فیصلہ نہ کئے تو اس کا بوجھ ملک کی تمام سیاسی قیادت پرآئے گا۔ ہمیں اپنے خدشات کو مل کر ختم کرنا ہوگا۔ ایک ضرب عضب شمالی وزیرستان میں ہورہی ہے تو دوسری ضرب عضب ان عناصر کے خلاف بھی ہونی چاہیے جو ملک کے اندر بیٹھ کر ہی وطن عزیز کو غیر مستحکم کررہے ہیں اور دہشتگردوں کی سوچ سے مطابقت رکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…