جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی ریاست آسام میں علیحدگی پسندوں نے 52 افراد کو ہلاک کر دیا

datetime 24  دسمبر‬‮  2014 |

سونت پور ۔۔۔۔ بھارتی ریاست آسام میں علیحدگی پسند بوڈو قبائلیوں نے دو مختلف اضلاع میں متعدد حملے کر کے عورتوں اور بچوں سمیت 52 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ریاست آسام کی پولیس کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسند قبائلیوں نے ریاست کے دو ضلعوں، کوکراجھار اور سونت پور میں چار مختلف جگہ پر حملے کیے
پولیس کے مطابق سب سے جان لیوا حملہ سونت پور میں کیا گیا جہاں 26 لوگ ہلاک ہوئے
پولیس نے کہا ہے کہ ریاست کے دوردراز علاقوں میں ہونے والے ان حملوں کے پیچھے کالعدم تنظیم نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ (این ڈی ایف بی) کا ہاتھ ہے۔ این ڈی ایف بی عشروں سے علیحدہ ملک کا مطالبہ کر رہی ہے۔آسام پولیس کے آئی جی ایسن سنگھ نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ پولیس نے پیر کو این ڈی ایف بی کے دو اہم رہنماؤں کو جھڑپ میں ہلاک کیا تھا جس کا بدلہ لینے کے لیے یہ حملے کیے گئے ہیں.حکام نے علاقے میں ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔حملے میں زندہ بچ جانے والے دیہاتیوں نے پولیس کو بتایا کہ حملہ آور پیدل آئے، زبردستی دروازے توڑ کرگھروں میں گھسے اور گولیاں چلانے لگے۔دیہاتیوں کے مطابق کچھ افراد کو ان کے گھروں سے باہر نکال کر مارا گیا۔ہلاک ہونے والے افراد کی اکثریت آدی واسی قبائل سے تعلق رکھتی ہے۔ایک پولیس اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے عورتوں اور بچوں کو بھی نہیں بخشا۔‘
پولیس اہلکار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد کی اکثریت آدی واسی قبائل سے تعلق رکھتی ہے جو چائے کی کاشت کا کام کرتے ہیں۔بھارتی وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ بدھ کو آسام کا دورہ کر رہے ہیں جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’سونت پور اور راجھار میں معصوم لوگوں کو مارنا بزدلی ہے۔‘انھوں نے ہلاک شدگان سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ’میں نے آسام کے وزیر اعلیٰ سے بات کی ہے۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ حالات کا جائزہ لینے کے لیے آسام جائیں گے۔‘چائے کی کاشت کے لیے مشہور ریاست آسام میں مقامی بوڈو قبائل اور دیگر قبائل کے مابین زمین کی ملکیت پر اکثر جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔بوڈو عسکریت پسند مقامی قبائلیوں اور مسلمانوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ رواں برس مئی میں ایسے ہی ایک حملے میں کوکراجھار اور خانے کے اضلاع میں 32 افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ بانسباڑ میں ہونے والے حملے میں 100 سے زیادہ مسلمان مارے گئے تھے۔آسام کی سرحدیں بنگلہ دیش اور بھوٹان سے ملتی ہیں۔ رواں برس پرتشدد واقعات میں 45 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ دس ہزار کو اپنا گھر بار چھوڑ وہاں سے فرار ہونا پڑا تھا۔
2012 میں ہونے والے نسلی فسادات میں کم از کم 100 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور چار لاکھ افراد بے گھر ہو گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…