بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

رہنما تحریک انصاف جہانگیر ترین کیسے ارب پتی بنے

datetime 22  ستمبر‬‮  2015 |

لودھراں (نیوز ڈیسک)رہنما پی ٹی آئی جہانگیر ترین نے زندگی میں کامیابی کا راز بتاتے ہوئے کہاکہ ’ انسان کوہمیشہ اللہ تعالی کی دین پر خوش ہوناچاہیے ‘۔ا±ن کاکہناتھاکہ سیاست اور کاروبارسمیت بڑے کام کیے لیکن زراعت میں بڑا مزاآیا، شاید انسان کا رشتہ مٹی کیساتھ ہے ، اسی وجہ سے اچھالگتاہے۔ جہانگیرخان ترین نے ویڈیو پیغام کے ذریعے بتایاکہ انہوں نے 1974ءمیں بائیس سال کی عمر میں امریکہ سے ایم بی اے کیا، اس کے بعد پاکستان آگیاکیونکہ یہی خیال تھاکہ اگرامریکہ رہ جاتاتو شاید کبھی واپس نہ آتا۔ وہی کام کرناچاہتاتھا جس کا شوق تھا، سب سے پہلے پنجاب یونیورسٹی میں نوکری کی ، لیکچررتھا، سات سوپانچ روپے تنخواہ ملتی تھی ، ایک سال ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن میں پڑھایا، پڑھانا میرے لیے ایک قدرتی چیز تھی۔اس کے بعد ایک بینک میں تین سال نوکری کی ، فیملی کا دباو تھاکہ استادی چھوڑکر کوئی اور کام کرو، پھران کی بات مان لی ، اچھاتجربہ تھا اور تجویز دوں گاکہ ضرورت ہویانہ ہو، ہرکسی کو نوکری کرنی چاہیے ، ایک ادارے میں آپ کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتاہے ،پلازے کے تہہ خانے میں کام کرتاتھا اور جب شام کو باہر نکلتاتھا تواندھیراہوتاتھاجس کی وجہ سے اکتاگیا۔ایک آدھ دوستوں سے مشورہ کرکے استعفیٰ دیدیااور پھر1978ءمیں ملتان ڈیرے ڈال لیے ،ایم بی اے ہونے کے باوجود والد کے لودھراں میں موجود فارم میں کام کرناشروع کردیا،والد کو کاشتکاری کرنے کی خواہش کابتایاتوا±نہوں نے پوچھا کہ بیٹا بینک میں کسی سے لڑائی ہوگئی تو جواب نفی میں تھا۔جہانگیر ترین کاکہناتھاکہ تین چار سال بعد پتہ چلا کہ میری زمین سے دوکلومیٹردورمحکمہ جنگلات کی بنجر زمین پڑی ہے جو بعد میں فوج کو دیدی گئی ،

 مزید پڑھئے:کرسیاں خاموش قاتل ہیں، لہٰذا اٹھ کر ٹہل لیاکریں

فوج نے شہداءاور دیگر لوگوں کے نام الاٹ کردی ، وہ یہاں قبضے کیلئے آئے تو زیرزمین پانی کھاراتھا،بڑے بڑے ٹیلے اور کانٹے دار درخت تھے ،بجلی اور سڑک بھی نہیں تھی ، وہ گھبرائے تو ہم نے خریدنا شروع کردی ،بنجر ہونے کی وجہ سے بہت سی سستی ملی ،بیس سال محنت کی ، آج یہاں آموں کا باغ ہے ، شروع میں دوکمروں کا گھربنایاجس میں بڑی خوشی سے بیس سال گزارے ، تین دفعہ آسٹریلیا صرف کاشتکاری سیکھنے گیا، امریکہ سے لوگوں کو بھی بلایااور ایک طرح کی منیجمنٹ ٹیم بنائی کیونکہ دنیا میں اور بھی کام کرنے تھے۔ وہ گورے جب یہاں آتے تھے تو کہتے تھے کہ یہ تمہارے ’ونڈشیٹ فارمر‘ ہیں یعنی جوصرف اپنی گاڑی کی کھڑکی سے دیکھتے ہیں۔آپ خود کام نہ کریں یا آپ کو کچھ پتہ نہ ہوتو کچھ نہیں کرسکتے ، دس سال خودکاشتکاری کی ، اللہ نے کامیاب کیااور آج سب کچھ دنیا کے سامنے ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…