جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

خاتون نے ملازمت چھوڑ کرتنخواہ پر والدین کی خدمت کی نوکری اختیار کرلی

datetime 27  مئی‬‮  2023 |

بیجنگ(این این )چین میں ایک خاتون نے اپنی ملازمت چھوڑ کر والدین کے گھر کی نوکری اختیار کرلی جس میں وہ اپنے بوڑھے ماں باپ کا خیال رکھیں گی اور اس کے بدلے 570 ڈالر ماہانہ وصول کریں گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنے ہی ماں باپ سے ان کی ہی خدمت کا ماہانہ معاوضہ لینے پر اس خاتون پر تنقید کی جارہی ہے۔

نیانن نامی خاتون گزشتہ 15 برس سے ایک خبری ادارے میں کام کررہی تھیں، جہاں انہیں دبا کا سامنا بھی تھا۔ اس صورتحال میں ان کے والدین نے آگے بڑھ کر ایک پیشکش کی۔والدین نے نیانن سے کہا کہ اسے گھرپررہنا ہوگا۔ سودا سلف لانا ہوگا اور کھانا پکانا ہوگا اور کبھی کبھی والدین کے ساتھ خوشی میں رقص بھی کرنا ہوگا۔ اس کے بدلے ماہانہ 570 ڈالر رقم اس کے والدین ادا کریں گے۔ ماہانہ اسے ایک یا دو مرتبہ والدین کو باہر سیر پر لے جانا ہوگا اور گاڑی چلانا ہوگی۔

والدین نے کہا کہ وہ صرف والدین کے پاس ہی رہے اور تنخواہ لے جبکہ اچھی ملازمت ملنے پر وہ کبھی بھی گھرچھوڑ کر جاسکتی ہیں۔ اسے والدین نے کل وقتی بیٹی کی نوکری قرار دیا ہے۔نیانن کے اس فیصلے پر انٹرنیٹ صارفین نے اپنے ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ بعض افراد نے کہا ہے کہ چین میں اسے برا سمجھا جاتا ہے اور اسے والدین کو کھانے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے فل ٹائم بیٹی کے لفظ پر بھی تنقید کی ہے۔دیگر صارفین نے کہا کہ والدین کی خدمت کرنی چاہیئے لیکن 570 ڈالر رقم بہت زیادہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…