کراچی(نیوزڈیسک)پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت جب ہفتہ اور اتوار کو دبئی میں ملاقات کرے گی تو وہ نہ صرف سندھ میں درپیش صورتحال کے تناظر میں خصوصی طور پر سیاسی۔ عسکری تعلقات یا پارٹی کی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کشیدگی پر ہی غور کرے گی بلکہ اہم ایجنڈا پیپلزپارٹی کی مکمل تنظیم نو اور رد و بدل کا ہوگا تاکہ کھوئی ہوئی مقبولیت دوبارہ حاصل کی جا سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے سیاسی جائزے میں اس اجلاس کا نتیجہ کس قدر نمایاں ہوگا۔ پیپلزپارٹی کو سندھ کی صورتحال اور جس طرح سے وزیراعلیٰ کے اختیارات کو زک پہنچائی گئی، اس پر تشویش ہے۔ گوکہ وزیراعظم نوازشریف کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے لیکن پیپلزپارٹی کے بعض رہنمائوں کے مطابق یہ درحقیقت خود وزیراعظم کے لئے انتباہ ہے کہ وہ چوکنّا رہیں۔روزنامہ جنگ کے صحافی مظہرعباس کی رپورٹ کے مطابق چند روز قبل سندھ میں اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں بہتری کی علامت کو محسوس کیا گیا۔ گوکہ ایف ائی اے کے ڈائریکٹر اس اجلاس میں موجود نہ تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں کوئی کشیدگی دکھائی نہیں دی۔ رینجرز نے خود کو دہشت گردوں اور ان کے مالی معاونین کے خلاف کارروائی تک محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جبکہ مرکز نے بھی ایف آئی اے کو محتاط رہنے کا پیغام دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پیپلزپارٹی کے ساتھ اپنی کشیدگی دُور کرنے کے لئے کوششوں کا امکان ہے اور ایم کیو ایم کے ساتھ بھی مکالمہ شروع کیا جا سکتا ہے، لیکن دہشت گردوں اور ان کے مالی معاونین کے خلاف ’’کراچی ٹارگٹیڈ ایکشن‘‘ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ لہٰذا وزیراعظم نوازشریف اور ن لیگ کے رہنماء دبئی اجلاس کے نتیجے کو بڑے تجسس سے دیکھیں گے۔ انہیں حکومت کی کارکردگی اور حتیٰ کہ وزیراعظم پر تنقید قابل قبول ہو سکتی ہے لیکن وہ یہ بھی دیکھیں گے کہ پیپلزپارٹی کس لائحہ عمل کا فیصلہ کرتی ہے۔ ن لیگ کا جواب یا ردعمل قول و فعل میں اس کے عین مطابق ہوگا۔ وزیراعظم کے اپنی حکومت کے حوالے سے خدشات پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے جواب میں بیان کو کشیدگی دُور کرنے کے اقدام کے طور پر دیکھا گیا۔ خورشید شاہ نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ جب تک جمہوریت اور پارلیمنٹ ہیں، حکومت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ خورشید شاہ کا بیان گزشتہ سال پارلیمنٹ سے منظور مشترکہ قرارداد کا اعادہ ہے جب عوامی تحریک اور تحریک انصاف نے پارلیمنٹ پر ہلّہ بولا تھا۔ ایک طرح سے پیپلزپارٹی نے گیند وزیراعظم کے کورٹ میں پھینک دی ہے جبکہ یہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی مثبت اشارہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر نہ صرف آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ضرب عضب میں فوج کی قربانیوں کو سراہا اور اس سے زیادہ اہم بات یہ کہ اگر سڑکوں پر آویزاں جنرل راحیل شریف کی تصاویر لگی ہیں تو انہیں اعتراض بھی نہیں، لیکن دبئی کے اجلاس میں 2013ء کے عام انتخابات کے بعد سے پیپلزپارٹی کا پوسٹ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)
-
کن ممالک میں عید الفطر کا اعلان ہو گیا؟
-
اسٹیٹ بینک کا بینکوں کی تعطیل کا اعلان
-
بیوی کی رضا مندی نہ ہونے پر شوہر کے خلاف بد فعلی کا مقدمہ درج
-
افغان طالبان پروپیگنڈے کا پردہ چاک، اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف
-
اسٹیٹ بینک نے ملک بھر میں نئے کرنسی نوٹوں کی تقسیم کا عمل شروع کر دیا
-
صدر کے ہوٹلوں پر چھاپے، نائٹ کلبز کے لیے اسمگل ہونے والی 32 خواتین بازیاب
-
علی لاریجانی کی شہادت کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان بھی آ گیا
-
پنجاب میں عید کی چھٹیوں کا اعلان ہوگیا
-
ایمان فاطمہ نے شوہر رجب بٹ سے صلح کی کوششوں پر خاموشی توڑ دی
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کیلئے اردو میں ہنگامی الرٹ ہدایات جاری
-
امریکی و اسرائیلی حملے میں مجتبی خامنہ ای کیسے محفوظ رہے؟ لیک آڈیو میں انکشاف
-
دی ہنڈرڈ لیگ میں ابرار احمد کے معاہدے پر بھارتی اداکارہ کا شدید ردعمل
-
ایم ڈی ایم اے کا ملک بھر میں بارش اور برفباری کا الرٹ جاری



















































