جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت جوڈیشل کمیشن کااعلان کردے تو معاملات خوش اسلوبی حل ہوسکتے ہیں، سراج الحق

datetime 22  دسمبر‬‮  2014 |

پشاور۔۔۔۔تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ سانحہ پشاور نے 1965 کے بعد پہلی مرتبہ قوم کو متحد کردیا ہے اور ایسے ماحول میں امید ہے کہ ا ئندہ ملاقات میں حکومت سے معاملات طے ہوجائیں گے۔پشاور میں امیرجماعت اسلامی سراج الحق سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومت سے ہونے والی گزشتہ ملاقات مثبت تھی اور حکومت سے مثبت توقعات ہیں جب کہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لئے حکومت سے بات ہورہی ہے اس لئے ملکی مفاد میں قیاس ا رائیوں اور مفروضوں کو دور رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے فیصلوں کا دار و مدار حکومت کے رویئے پر ہے سیاسی دوریوں کے باوجود پی ٹی ا ئی نے مثبت رویہ اختیار کیا اور امید ہے کہ حکومت بھی دو قدم ا گے بڑھاتے ہوئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت مثبت رویہ دکھائے تو تحریک انصاف سے استعفے واپس لینے کے لئے کہیں گے، حکومت کو چاہیئے کہ قوم کو سرپرائز دیتے ہوئے خود ا گے بڑھ کر مذاکرات کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جوڈیشل کمیشن کااعلان کردے تو معاملات خوش اسلوبی حل ہوسکتے ہیں اور اگر انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات ہوجائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا، پْرامن اور خوشحال پاکستان ہم سب کا متفقہ ایجنڈا ہے اور امید ہے کہ 2015 میں پاکستان ایک پرامن اور خوشحال ملک بن کر ابھرے گا اس لئے حکومت 2015 کو امن کا سال قرار دے کر کوششیں شروع کردے۔امیر جماعت اسلامی نے سانحہ پشاور کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور کسی مذہب میں دہشتگردی کی اجازت نہیں،ملک کے کونے کونے سے دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھی ہے، قیام امن کیلیے جدوجہد کو منبر و محراب سے بھی چلانے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…