حیدرآباد (این این آئی)ریٹائرڈ جسٹس شائق عثمانی نے کہا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دینا درست ہے لیکن سپریم کورٹ میں جس طرح ان کو ویلکم کیا گیا، اسلام آبا دہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ سمیت دیگر مقدمات میں عبوری ضمانت دے دی گئی، توشہ خانہ کیس کی کاروائی کو بھی معطل کر دیا گیا، اس سے عدلیہ پر عوام کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے
اس لئے اعلیٰ سطح پر اس کا نوٹس لیاجانا چاہئے کہ ایسا کیسے اور کیوں ہو رہا ہے اور پورے عدالتی نظام کو کیسے مینوپولیٹ کیا جا رہا ہے، عدالتی نظام میں یہ اصول ہے کہ انصاف ہونا بھی چاہیے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیے۔ریٹائرڈ جسٹس شائق عثمانی نے ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی سمجھتا ہوں کہ عمران خان کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرنا غیرقانونی تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے گرفتاری کو قانونی مگر گرفتاری کے طریقہ کار کو غیرقانونی گرفتار قرار دیا تھا جس کے خلاف اپیل کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے درست طور پر گرفتاری کو غیرقانونی قرار دیا، لیکن سپریم کورٹ میں جس طرح عمران خان کو ججز نے ویلکم کہا اور پھر انہیں اپنی نگرانی میں گیسٹ ہائوس بھیج کر کہا کہ آپ کو اجازت ہے وہاں لوگوں سے گپ شپ لگائیں، ججز کبھی ایسا رویہ اختیار نہیںکرتے، ان کے سامنے کوئی بھی چھوٹا یا بڑا شخص پیش ہو وہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتے ہیں، اگر کوئی جج اپنے سامنے پیش ہونے والے شخص کا لحاظ کرتا ہے اس کے ساتھ خصوصی رویہ اختیار کرتا ہے تو پھر ایسے جج کے خلاف دوسری طرف سے جانبداری کا الزام لگتا ہے، ممکن ہے وہ جانبدار نہ تو لیکن جب اس کے روئیے سے لیکن جانبداری ظاہر ہو گی تو الزام بھی لگے گا، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کے ساتھ جس طرح کا خصوصی رویہ اختیار کیا اس سے لوگوں میں شکوک و شہبات پیدا ہوئے ہیں جس کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے، ریٹائرڈ جسٹس شائق عثمانی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ضمانت کے لئے عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ بھیج دیا
ان کی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دیا گیا یہ بالکل درست قدم تھا لیکن عمران خان کے خلاف القادر ٹرسٹ کرپشن کا ایک مضبوط کیس تھا مگر اس کو عام کیس سمجھتے ہوئے تاریخ دے دی گئی، جبکہ عدالتی قانونی طریقہ یہ تھا کہ عمران خان کو حفاظتی ضمانت دی جاتی اور ہدایت کی جاتی کہ وہ احتساب عدالت جو ٹرائل کورٹ ہے وہاں ضمانت کی درخواست دیں
کیونکہ اس عدالت سے القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کا نیب تحویل کا ریمانڈ بھی ہو چکا تھا اور کیس بھی آگے بڑھ چکا تھا، لیکن ضمانت کے لئے انہیں ٹرائل کورٹ بھیجنے کی بجائے اسلام آباد ہائی کورٹ سے ہی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی، توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے خلاف فرد جرم عائد ہونے کے باوجود کیس کو ہائیکورٹ کی طرف سے معطل کئے
جانے کے حوالے سے سوال پر جسٹس شائق عثمانی نے کہا کہ اس روئیے سے بہت سے سوالات پیدا ہوئے ہیں کہ ایسا کیوں اور کیسے ہو رہا ہے، عدالتی نظام کو کیوں مینوپولیٹ کیا جا رہا ہے، عدالت کو اعلیٰ سطح پر اس کو دیکھنا چاہئے اور معاملات کو قانون کے مطابق درست کرنا چاہیے کیونکہ اس سے عوام کا نظام انصاف پر اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔