جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

یورپی پارلیمنٹ میں فلسطین کو الگ ریاست تسلیم کرنے کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور

datetime 22  دسمبر‬‮  2014 |

برسلز۔۔۔۔ یورپی یونین نے فلسطین کو الگ ریاست تسلیم کرنے کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی ہے جب کہ یورہی یونین ہی کی اعلیٰ عدالت نے فلسطینی تنظیم حماس کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔برسلز میں ہونے والے یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں فلسطین کو الگ ریاست تسلیم کئے جانے کی قرارداد پرکافی دیر جاری رہنے والی بحث کے بعد ووٹنگ کرائی گئی جس میں پارلیمنٹ کے 498 ارکان نے قرارداد کے حق اور 88 نے مخالفت میں ووٹ دیا جب کہ 111 ارکان اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ قرارداد میں یورپی یونین کے رکن ممالک پر زوردیا گیا ہے کہ وہ فلسطین کوغیر مشروط طور پر ایک الگ ریاست تسلیم کریں۔دوسری جانب لکسمبرگ میں یورپی یونین کی عدالت نے حماس کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کردیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ 2001 میں یورپی یونین کا حماس کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ ٹھوس قانونی شہادتوں پر نہیں بلکہ انٹر نیٹ اور اور دیگر ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات کے تجزیے پر کیا گیا تھا تاہم حماس کے اثاثے 3ماہ تک منجمد رہیں گے۔اس موقع پر حماس کے رہنما ابو موسیٰ مرزوک کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے پر یورپی یونین کے شکرگزار ہیں کیوں کہ فیصلے سے ایک تاریخی غلطی کو درست کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس ایک مزاحمتی تنظیم ہے اور تمام عالمی قوانین اسے غیر ملکی قابضین کے خلاف جدو جہد کرنے کا حق دیتے ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نے یورپی یونین کی عدالت کے فیصلے پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے حماس کو دوبارہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل یورپی عدالت کے فیصلے سے مطمئن نہیں کیوں کہ حماس قاتل دہشت گردوں کے گروپ کا نام ہے جب کہ یورپی یونین کمیشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ فی الحال یورپی یونین حماس کا نام دہشت گرد نتظیموں کی فہرست سے نہیں نکالے گی اور اس حوالے سے جلد عدالت میں اپنے نکتہ نظر کو پیش کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…