ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

آگے بڑھنے کا واحد راستہ کیا ہے ، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بتا دیا

datetime 14  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش بے شمار مسائل کے حل کا واحد راستہ قومی مذاکرات ہیں۔ایک انٹرویومیں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو آگے آنا چاہیے اور ملکی مسائل کے حل کے لیے قومی مذاکرات کا اعلان کرنا چاہیے، آج یہ ان کی ذمہ داری ہے۔تاہم سابق وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ

انتخابات کا انعقاد ’ثانوی اہمیت‘ کا حامل ہے اور الیکشن ملک کو درپیش مسائل کا حل نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ سیاست کرتے رہیں گے اور ملک کو اسی طرح سے چلائیں گے جیسے ماضی میں چلاتے رہے۔انٹرویو کے دوران جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا ان کی جماعت مسلم لیگ (ن) بھی قومی بات چیت کے انعقاد کے خیال کو سپورٹ کرے گی؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ’’میں پارٹی کا ترجمان نہیں ہوں، لیکن اگر کسی کے پاس ملکی مسائل کے حل کے لیے کوئی اور طریقہ موجود ہے تو وہ تجویز کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آگے بڑھنے کا یہ ہی واحد راستہ ہے، پاکستان کے مسائل کا کوئی اور حل نہیں ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی ایک سیاسی جماعت میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ تن تنہا ملک کے مسائل حل کر سکے؟ کیا گزشتہ ڈیڑھ سال میں کسی سیاسی جماعت نے ملکی مسائل پر بات کی ؟سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہم (سیاستدانوں) نے ایک دوسرے کو گالیاں دیں، ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالا، ایک دوسرے کی تضحیک و تذلیل کی، ہم نے پارلیمنٹ کو مفلوج کیا اور اسے لا یعنی و بے معنیٰ تبادلہ خیال کی جگہ بنا دیا تاہم ہم میں سے کسی نے بھی ملکی مسائل کے بارے میں بات نہیں کی۔

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما کی جانب سے یہ بیان یسے وقت میں آیا ہے جب کہ حکمران اتحاد پی ٹی آئی کے ساتھ انتخابات پر بات چیت کرنے پر تقسیم کا شکار دکھائی دے رہا ہے، گزشتہ ہفتے پیپلز پارٹی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ متنازع مسائل کو حل کرنے کے لیے مل کر بیٹھیں جب کہ

مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ایف) نے عمران خان کی زیر قیادت جماعت کے ساتھ بات چیت کے خیال کو مسترد کر دیا تھا۔حکمران مسلم لیگ (ن) خود اس معاملے پر منقسم ہے، اس کے کچھ رہنماؤں جیسے سینیٹر مشاہد حسین سید نے زور دے کر کہا کہ انہیں پی ٹی آئی سے بات کرنی چاہیے جبکہ کچھ دوسرے رہنماؤں جیسے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اس خیال کی مخالفت کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…