ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ٹی ٹونٹی میں قومی ٹیم کی قیادت شاہین آفریدی کے سپرد کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

datetime 12  اپریل‬‮  2023 |

لاہو ر( این این آئی) لاہور قلندرز کے ہیڈکوچ اور سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید نے کہا ہے کہ ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں پاکستان کو شاہین آفریدی کی طرح جارح مزاج کپتان کی ضرروت ہے۔لاہور قلندرز کے ہیڈکوچ عاقب جاوید نے بھی بابر کی کپتانی کے حوالے سے اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ

بابر بڑے فارمیٹ کی کرکٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور انہیں طویل فارمیٹ کی کرکٹ یعنی ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ میں ٹیم کی قیادت جاری رکھنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کرکٹ کے نقطہ نظر سے بات کروں تو مستقبل میں ہمارے پاس زیادہ ٹی ٹونٹی کرکٹ نہیں، ورلڈکپ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں شاہین کو بطور ٹی ٹونٹی کپتان قومی ٹیم کی قیادت کرنی چاہیے۔سابق کرکٹر نے کہا کہ شاہین آفریدی کی قائدانہ صلاحیتیں سب کے سامنے ہیں، پی ایس ایل میں کوئی بھی ٹیم لگاتار 2 بار ٹائٹل نہیں جیت سکی لیکن شاہین کی کپتانی میں لاہور قلندرز نے کرکے دکھایا، میرے خیال میں شاداب اور بابراعظم کی کپتانی میں قومی ٹیم جارح مزاج انداز میں نہیں کھیل رہی۔انہوں نے کہا کہ شاہین دلیر فیصلے کرنے کیلئے جانے جاتے ہیں، ان فیصلوں کی وجہ سے اسی وجہ سے وہ بعض اوقات تنقید کی زد میں بھی رہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…