ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

حکومت اور اپوزیشن کے بیک ڈور مذاکرات میں گارنٹی پر ڈیڈ لاک برقرار

datetime 11  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )حکومت اور اپوزیشن کے بیک ڈور مذاکرات میں گارنٹی پر ڈیڈلاک برقرار ہے ، ن لیگ گارنٹی چاہتی ہےکہ جوبات طےہوگی عمران خان تسلیم بھی کریں گے۔تفصیلات کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے بیک ڈور مذاکرات میں گارنٹی پر ڈیڈلاک برقرار ہے

، ذرائع نے بتایا کہ مشترکہ دوستوں کے ذریعے بات چیت پر دونوں اطراف میں اعتماد کا بھی فقدان ہے۔نجی ٹی وی اے آروائی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ گارنٹی چاہتی ہےکہ جوبات طےہوگی عمران خان تسلیم بھی کریں گے، پیپلزپارٹی بھی ڈیڈ لاک کوختم کرنےمیں کردار ادا کرے گی۔ذرائع کے مطابق دونوں جانب گارنٹی کے بعد باضابطہ مذاکرات شروع ہوں گے۔یاد رہے گذشتہ روز آصف زرداری نے وزیراعظم کو اپوزیشن سے مذاکرات کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اپوزیشن کومذاکرات کرنےہیں توشہباز کےپاس جانا ہوگا لیکن مذاکرات کیلئےشرائط نہ رکھی جائیں۔اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر نے حکومت کو مشروط مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔اسدقیصر کا کہنا تھا کہ حکومت کیساتھ بات کیلئے تیار ہیں لیکن شرط ہے پہلے اسمبلی تحلیل کریں ہم دوبارہ اقتدارمیں آئیں گےتوپاکستان کےمستقبل کیلئےکام کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…