ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

دنیا بھر میں ہر 6 میں سے ایک فرد بانجھ پن کا شکار

datetime 7  اپریل‬‮  2023 |

جنیوا (این این آئی)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر 6 میں سے ایک شخص بانجھ پن کا شکار ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ یہ اعدادوشمار 1990 سے 2021تک ہونے والی طبی تحقیقی رپورٹس پر مبنی ہیں جس سے معلوم ہوا کہ دنیا بھر میں 17.5 فیصد بالغ آبادی

کو بانجھ پن کا سامنا ہے،امیر، متوسط اور غریب ممالک میں بانجھ پن کی شرح کے موازنے سے عندیہ ملتا ہے یہ دنیا کے ہر خطے کیلئے ایک سنگین طبی چیلنج ہے۔امیر ممالک میں یہ شرح 17.8 فیصد جبکہ متوسط اور غریب ممالک میں 16.5 فیصد ہے۔ڈبلیو ایچ او نے بانجھ پن کی تعریف 12 ماہ یا اس سے زیادہ باقاعدگی سے غیر محفوظ جنسی تعلقات کے بعد حمل حاصل کرنے میں ناکامی کے طور پر کی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق بانجھ پن کی تعریف شادی شدہ جوڑے کے درمیان جنسی تعلقات کے ایک سال یا اس سے زیادہ عرصہ کے دوران حاملہ نہ ہونے کے طور پر کی جاتی ہے، یعنی شادی کے ایک سال کے اندر یا ایک سال سے زائد دورانیے میں حمل نہ ہونا بانجھ پن کی علامت جانی جاتی ہے۔اقوام متحدہ کے ہیلتھ ایجنسی کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئس کے مطابق بانجھ پن کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جو اکثر پیچیدہ ہیں، جن میں مردوں اور خواتین دونوں کو اس مسئلے کا سامنا ہوتا ہے۔انہوںنے کہاکہ بیشتر ممالک میں اس حوالے سے طبی سہولیات ناکافی ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے فرٹیلیٹی کیئر یونٹ کے سربراہ جیمز کیاری نے بتایا کہ 1990اور 2021کے درمیان بانجھ پن کی شرح میں اضافہ نہیں دیکھا گیا۔انہوںنے کہاکہ موجودہ اعدادوشمار کے مطابق ہم یہ نہیں کہہ سکتے ک بانچھ پن کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے، اس پر ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بانجھ پن سے شکار افراد کی ذہنی اور جسمانی حالت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں،

اس کے علاوہ طبی اور نفسیاتی صحت پر بھی اثر ہوتا ہے جو کہ ان کی زندگی کی کیفیت کو بہتر کرنے سے روکتا ہے۔غریب ممالک میں بانجھ پن کے علاج کے لئے لوگوں کو بہت زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے جو کہ ان کی مالی حالت کو مزید متاثر کرتی ہے، جس کے باعث وہ علاج کرانے سے گریز کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…