ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

لاپتا افراد بازیاب نہ کیے تو ڈی آئی جی کو جیل میں ڈالیں گے، سندھ ہائی کورٹ

datetime 6  اپریل‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی) سندھ ہائیکورٹ نے 7 سال سے لاپتا سمیر خان کی بازیابی سے متعلق درخواست پر پنجاب، خیبر پختونخوا اور دیگر علاقوں میں قائم حراستی مراکز کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے اے وی سی سی اور سی ٹی ڈی کو تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیدیا۔جمعرات کوسندھ ہائی کورٹ میں جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو کی

سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے 7 سال سے لاپتا سمیر خان اور دیگر کی عدم بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت کی، جس میں والدہ نے آہ و بکا کرتے ہوئے کہا کہ سمیر آفریدی کو 2016 میں سی ٹی ڈی نے حراست میں لیا تھا۔ بیٹے کو چھوڑنے کے لیے پیسے مانگے گئے، پیسے نہ دینے پر غائب کردیا گیا۔ پولیس والے جے آئی ٹیز کے سامنے بیٹھا کر خوار کرتے ہیں۔سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے کچھ نہ کیا تو ہم ڈی آئی جی کو جیل میں ڈالیں گے۔ عدالت نے پولیس اور جے آئی ٹیز اور دیگر اداروں کی رپورٹس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ عدالت نے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بتایا جائے لاپتا افرادکی بازیابی کے لئے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں؟عدالت نے پنجاب، خیبر پختونخوا اور دیگر علاقوں میں قائم حراستی مراکز کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے اے وی سی سی اور سی ٹی ڈی کو تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے 8 مئی تک شہری سمیر آفریدی کو بازیاب کراکر پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…