ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ہم عید کیسے منائیں؟ ڈاکوئوں کے ہاتھوں قتل شخص کے بچوں کی ویڈیو وائرل

datetime 6  اپریل‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)کورنگی کے علاقے میں مزاحمت نہ کرنے پر بھی ڈاکوئوں کی فائرنگ سے جاں بحق شخص کے بچوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس میں انہوں نے اپنے مستقبل سے متعلق سوالات کرکے ارباب اختیار کی بے حسی کو جھنجوڑنے کی کوشش کی ہے۔کورنگی میں گزشتہ ماہ 22 مارچ کو ڈاکوئوں نے موبائل فون اور نقدی چھیننے اور مزاحمت نہ کرنے

کے باوجود سینے پر گولی مار کر 35 سالہ محمد حسین کو سر عام قتل کر دیا گیا تھا، اس واقعے کی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی تھی، تاہم پولیس سمیت دیگر اداروں یا ارباب اختیار نے مقتول کے اہل خانہ کے دکھ کو محسوس نہیں کیا۔مقتول محمد حسین کی 3 بیٹیوں اور ایک بیٹے کا ویڈیو بیان گزشتہ روز سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، جس میں معصوم بچوں نے ارباب اختیار سے کئی سوالات کر دیے۔ بچوں نے کہاکہ ہمارے بابا کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا ، ہمارے بابا کا کیا قصور تھا کہ انہیں اتنی سفاکی کے ساتھ قتل کر دیا گیا؟ ہمارا کیا قصور تھا کہ ہمارے بابا کا سایہ ہم سے چھین لیا گیا؟بچوں نے کہاکہ رمضان چل رہے ہیں، سب اپنے اہلخانہ کے ساتھ رمضان منا رہے ہیں ، عید کی تیاریاں کر رہے ہیں ، اب ہم کیسے عید منائیں گے؟ ہمارے سر پر تو ہمارے بابا کا سایہ ہی نہیں ہے، اس سال تو ہمارے بابا کو ہی ہم سے چھین لیا گیا ، ہم اپنے بابا سے جو فرمائش کرتے وہ پوری کیا کرتے تھے، لیکن اب ہماری ذمے داری کون اٹھائے گا؟بچوں نے سوال کیا کہ اب ہمیں کون پڑھائے گا؟۔ ہمارے بابا نے ہمیں کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی ۔

ہماری تمام ضروریات اور خواہشات کو ہمارے بابا نے پورا کیا، مگر اب ہمارا کون ہے؟واضح رہے کہ کراچی میں کورنگی کے علاقے زمان ٹائون میں 22 مارچ کو ڈکیتی کی واردات کے دوران 4 بچوں کے باپ کوفائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ بعد ازاں واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی تھی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے مسلح ملزمان نے رقم اورموبائل فون چھیننے کے باوجود بغیر کسی مزاحمت کے فائرنگ کرکے محمد حسین کوقتل کردیا تھا۔ مقتول کلفٹن میں پیزا شاپ پر ملازمت کرتا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…