ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ینچ میں صرف 3 ججز رہ گئے ہیں اور اگر اعتماد بحال کرنا ہے تو فل کورٹ ہو، خواجہ آصف

datetime 31  مارچ‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سپریم کورٹ کا بینچ دوبارہ ٹوٹنے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ایک بات بار بار ثابت ہورہی ہے کہ اس وقت اعتماد کا فقدان ہے، کم ہوتے ہوتے اب بینچ میں صرف 3 ججز رہ گئے ہیں ، پہلے دن سے مطالبہ کررہے ہیں فل کورٹ بنایا جائے ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ بدقسمتی ہے کہ انصاف کی متلاشی پوری پاکستانی قوم کیلئے آخری منزل یہی ہے اور اس منزل میں اس وقت ہیجانی کیفیت پیدا ہوچکی ہے جس کے بعد عام سائل کی توقعات پر مایوسی چھا گئی ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ ہم سیاستدانوں میں پارٹی بازی، مخاصمت اور لڑائی جھگڑے بھی ہوتے ہیں یہ سب سیاست کے کلچر کا حصہ ہیں لیکن ان کے کلچر کا حصہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ میں معذرت کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ کا کلچر بہت اعلیٰ و ارفع مطالبات کرتا ہے جس سے کسی بھی حکومت،سیاسی پارٹی، کسی بھی طبقے کا اعتماد متزلزل نہ ہو لیکن آج اعتماد متزلزل ہورہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم پہلے دن سے مطالبہ کررہے ہیں فل کورٹ بنادیں کیوں کہ کم ہوتے ہوتے اب بینچ میں صرف 3 ججز رہ گئے ہیں اور اگر اعتماد بحال کرنا ہے تو فل کورٹ ہو تا کہ اس عمارت میں بیٹھے لوگوں پر جو اعتماد ہے وہ متزلزل نہ ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…