جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

قزاقستان میں بھیڑیے گاؤں کی حفاظت کرینگے

datetime 21  دسمبر‬‮  2014 |

الماتے۔۔۔۔۔ اطلاعات کے مطابق قزاقستان کے ایک گاؤں میں دیہاتیوں نے اپنی حفاظت کیلئے بھیڑیے پالنے شروع کر دیے ہیں۔قزاقستان کے ٹی وی چینل کے ٹی کے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ الماتے کے جنوب مشرقی علاقوں میں ’بھیڑیے کا بچہ پانچ سو ڈالر کے مساوی رقم میں مل جاتا ہے اور شکاریوں کا خیال ہے کہ اگر ان کا خیال رکھا جائے تو یہ جنگلی جانور پالتو بن جاتا ہے۔اس علاقے سے تعلق رکھنے والے نرسیت زلکشی بے نے چینل کو بتایا کہ اس نے تین سال قبل شکاریوں سے کرتکا نامی بھیڑیے کا بچہ خریدا تھا اور اب وہ اس کا پالتو ہے اور گھر میں کھلے عام پھرتا ہے۔نرسیت کے مطابق ’اس نے کبھی تنگ نہیں کیا۔ میں کبھی کبھار ہی اس کے گلے میں زنجیر ڈالتا ہوں اور روزانہ اسے گاؤں میں سیر کروانے لے جاتا ہوں۔ میرے اہلِ خانہ اور ہمسائے اس سے بالکل خوفزدہ نہیں ہیں۔‘انھوں نے دعویٰ کیا ’اگر بھیڑیے کا مناسب خیال رکھا جائے اور اسے اچھی خوراک دی جائے تو وہ آپ پر حملہ آور نہیں ہوتا۔ اور ویسے بھی اس کی خوراک ایک کتے سے زیادہ نہیں۔‘سوشل میڈیا پر بھیڑیے پالنے کے رواج کی مذمت کی گئی ہے۔تاہم جانوروں کے ماہر الماس زپاروف کے مطابق بھیڑیا ایک جنگلی جانور ہے اور اسے گھر میں رکھنا خطرے سے خالی نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’بھیڑیے ایک ٹائم بم کی مانند ہیں جو کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔‘الماس نے یہ بھی کہا کہ اگر اس سلسلے میں حکام نے کچھ نہ کیا تو اندیشہ ہے کہ یہ شوق جلد ہی قزاقستان کے امرا میں پھیل سکتا ہے جس کے مہلک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔سوشل میڈیا پر بھی بھیڑیے پالنے کے رواج کی مذمت کی گئی ہے اور کچھ افراد نے حکومت کو بھیڑیوں کی آبادی ختم نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…