پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

تاحیات نااہلی آئین کا حصہ نہیں بلکہ عدالتی تشریح ہے، جسٹس لودھی

datetime 6  اکتوبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال نے منگل کے روز پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل وائوڈا کی تاحیات نااہلی کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کیخلاف

ایک آئینی درخواست کی سماعت کے دوران یہ آبزرویشن دی کہ آئین کے آرٹیکل 62(ون)(f) کے تحت تاحیات نااہلی ایک کالا اور ڈریکونین قانون ہے۔روزنامہ جنگ میں  حنیف خالد کی خبر کے مطابق اس آبزرویشن کے قانونی پہلوئوں پر ماہرانہ رائے لینے کیلئے  جب لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج مسٹر جسٹس (ر) عباد الرحمان لودھی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ تاحیات نااہلی آئین کا حصہ نہیں بلکہ عدالتی تشریح ہے جج کو دوران سماعت اتفاقی اور ضمنی تبصروں سے گریز کرنا چاہئے کسی مقدمہ کی سماعت کے دوران فاضل جج کی طرف سے اس نوعیت کے تبصرہ کو (Obiter Dictum) کہا جاتا ہے اور آکسفورڈ ڈکشنری کی جانب سے اس قانونی اصطلاح کو اردو زبان میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ’’جج کی جانب سے ایسا اظہار رائے جو خواہ عدالت میں کیا جائے اور بے شک فیصلے کے ضمن میں کیا جائے لیکن فیصلے کا حصہ نہ ہو‘ تو وہ غیر موثر شمار ہو گا‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…