بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے گھی،آئل کی قیمتوں میں اضافہ سے متعلق کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا انکوائری روکنے کا حکم معطل کر دیا

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے گھی،آئیل کی قیمتوں میں اضافہ سے متعلق کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا انکوائری روکنے کا حکم معطل کر دیا ۔ پیر کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔ وکیل مسابقتی کمیشن فیصل صدیقی نے کہاکہ وزیر اعظم پورٹل پر

اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ کی شکایت آئی،مسابقتی کمیشں نے شکایت پر 117 ملوں کے خلاف انکوائری شروع کی۔ انہوںنے کہاکہ مسابقتی کمیشن نے شکایت پر انکوائری سے قبل 117 گھی ملوں کو معلومات کے خط لکھے۔ وکیل مسابقتی کمیشن نے کہاکہ گھی ملوں کے جوابی خطوط پر گھی کی قیمتوں میں اضافہ کی تحقیقات شروع کی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ گھی ملوں کو معلوماتی خطوط لکھنے سے پہلے اتھارٹی نے حکم پاس کیا،جوائنٹ ڈائریکٹر کو تحقیقات کا آغاز کرنے کا اختیار کس نے دیا؟۔وکیل مسابقتی کمیشن نے کہاکہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد گھی ملوں کیخلاف انکوائریاں رک گئی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ اگر انکوائری کے آغاز میں ڈھانچہ برقرار نا رہے تو انکوائری کیسے برقرار رہے گی، کمیشن نے قیمتوں میں اضافہ کی انکوائری کرنی ہے تو پہلے ملوں کو اس کی وجوہات بتائے، آپ نے نوٹس بھیجا اور اس میں بتایا نہیں کہ ملوں کو کیوں طلب کر رہے ہیں۔وکیل مسابقتی کمیشن نے کہاکہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم سے تمام انکوائریز زیر التواء ہیں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل کر رہے ہیں کمیشن انکوائری کرے۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ مسابقتی کمیشن اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ملوں کے خلاف انکوائری کرے، لاہور ہائیکورٹ کے حکم میں چند خامیاں ہیں جن پر وضاحت حاصل کرنے کی ضرورت ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…