’’ان 3 بڑے سیاسی رہنمائوں کوقتل کرنے کا پروگرام تھا ‘‘ گرفتار دہشت گردنےتہلکہ خیز بیان ریکارڈ کروا دیا

  جمعہ‬‮ 26 فروری‬‮ 2021  |  18:18

کراچی(این این آئی) سی ٹی ڈی کے ہاتھوں ایم کیو ایم لندن کے گرفتار مبینہ دہشت گرد واحد حسین کے تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، ملزم نے بتایا کہ عامر خان، مقبول صدیقی اور فیصل سبزواری قتل کرنے کا پروگرام تھا۔تفتیشی ذرائع کے مطابق دہشت گرد واحد حسین سلیم بیلجیم کا قریبی ساتھی اور پاکستان میں چیف مقرر تھا۔ واحد ایم کیو ایم لندن کے مسلح گروہ کو اسلحہ فراہم کیا کرتا تھا۔دہشتگردی کی واردات کے بعد اسلحہ چھپانے کی ذمہ داری بھی شامل تھی۔سلیم بیلجیم سے دہشتگردی کی تمام ہدایات واٹس ایپ کے ذریعے لی جاتی تھیں۔


پاکستان مخالف دہشت گردی میں سلیم بیلجیم تمام مالی معانت کرتا تھا، 8 دسمبر 2018 کو ایم کیو ایم پاکستان کے میلاد پر حملہ بھی سلیم بیلجیم کی ہدایت پر کیا گیا۔ایم کیو ایم پاکستان کے میلاد حملہ میں خواجہ اظہار الحسن، عامر خان ، مقبول صدیقی اور فیصل سبزواری ٹارگٹ تھے۔ چاروں رہنما کے قتل نہ ہونے پر بانی ایم کیو ایم نے سلیم بیلجیم سے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ملزم نے تفتیشی حکام کو بتایا کہ دسمبر 2018 کو پی ایس پی کے دفتر پر حملہ بھی سلیم بیلجیم کی ہدایت پر کیا۔ پی ایس پی کے دفتر حملہ میں محمد نعیم نامی کارکن قتل ہوا، جس پر سلیم بیلجیم کو واٹس ایپ پر بانی ایم کیو ایم کی جانب سے شاباشی بھی دی گئی۔ فروری 2019 کو شکیل انصاری کو قتل کیا گیا۔سلیم بیلجیم سیاسی پناہ لینے کے بعد برطانیہ میں رہائش پزیر ہے، جہاں وہ مختلف غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھا ہوا ہے اور وہ پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لئے یورپ سے فنڈز جمع کرتا ہے۔ملزم نے بتایا کہ دہشتگردی کی کامیاب واردات ہونے کے بعد رقم دی جاتی تھی۔ حوالہ ہنڈی کے ذریعے تمام رقم کی منتقلی کی جاتی ہے۔ سلیم بیلجیم جعلی ٹکٹوں، ٹیکس فراڈ آڈیو اور وڈیو سی ڈیز کے کاپی رائٹس چوری کرنے میں بھی ملوث ہے۔حکام کے مطابق سی ٹی ڈی گرفتار دہشتگرد کے انکشافات پر مزید تحقیقات کر رہی ہے جبکہ ایک ملزم یورپ میں ہے جس پر وہاں کے قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات کر رہے ہیں۔


زیرو پوائنٹ

جوں کا توں

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎